چوہدری محمد ارشد گل
جب دیہات میں سورج طلوع ہوتا ہے تو کپاس کے کھیت اب وہ مانوس سفید چمک پیش نہیں کرتے۔ جہاں کبھی چننے والے قطار در قطار مصروفِ عمل ہوتے تھے، وہاں آج مکئی، گنا، آلو کی فصلیں کھڑی ہیں — یا کہیں کہیں زمین بالکل ویران پڑی ہے۔ کسی بھی کسان سے پوچھیں کہ کپاس کہاں چلی گئی، جواب تقریباً ایک جیسے ملیں گے: گرمی وقت سے پہلے آ گئی، پانی دستیاب نہ رہا، بیج نے ساتھ نہ دیا، زرعی ادویات بے اثر ہو گئیں، اور جب قیمت ملی تو وہ خطرہ مول لینے کے قابل نہ تھی۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا — اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔
پاکستانی زراعت کو اکثر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ مگر ریڑھ کی ہڈی ایک ہی ضرب سے نہیں ٹوٹتی؛ وہ مسلسل دباؤ، غفلت اور غلط فیصلوں کے بوجھ تلے آہستہ آہستہ کمزور ہوتی ہے، یہاں تک کہ ایک دن وزن سنبھالنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ آج جو کچھ ہمارے سامنے ہے، وہ کسی ایک خراب موسم یا وقتی بحران کا نتیجہ نہیں، بلکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی، بیج، منڈی اور پالیسی میں برسوں سے جمع ہونے والے دباؤ کی منطقی شکل ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور کا خدشہ نہیں رہی۔ یہ خاموشی مگر تسلسل کے ساتھ کھیتوں میں داخل ہو چکی ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، بالخصوص گرم راتیں، فصلوں کی پیداوار کو اس انداز میں متاثر کر رہی ہیں جو فوری طور پر دکھائی نہیں دیتا مگر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ گندم کے دانے پورے نہیں بھرتے، کپاس کے پھول بُول بننے سے پہلے جھڑ جاتے ہیں، اور مکئی کا پولن شدید گرمی میں اپنی زرخیزی کھو بیٹھتا ہے۔ جو ہیٹ ویوز کبھی غیر معمولی سمجھی جاتی تھیں، اب معمول کا حصہ بن چکی ہیں — اکثر مارچ اور اپریل میں، جب فصلیں سب سے زیادہ نازک مرحلے میں ہوتی ہیں۔
کپاس کا وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب کی جانب بتدریج منتقل ہونا — اور وہاں بھی اس کی بڑھتی ہوئی ناکامی — اس بات کا حیاتیاتی ثبوت ہے کہ پاکستان کی زرعی موسمی حدود تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں، جبکہ ادارہ جاتی ردِعمل اس رفتار سے کہیں پیچھے ہے۔
پانی، جو زراعت کا دوسرا بنیادی ستون ہے، مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان اب باضابطہ طور پر پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے، مگر ہمارے زرعی طریقے اب بھی ایسے ہیں جیسے یہ مسئلہ وقتی ہو۔ نہری نظام میں شدید رساؤ ہے، تقسیم غیر منصفانہ ہے، اور زیرِ زمین پانی بے دریغ نکالا جا رہا ہے۔ نتیجتاً پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، زمین میں نمکیات بڑھ رہی ہیں، اور مٹی ہر سال زیادہ کھاد اور زیادہ محنت کے باوجود کم جواب دے رہی ہے۔
اسی دوران پانی زیادہ مانگنے والی فصلوں کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ دالیں، تیل دار اجناس اور موسمی دباؤ برداشت کرنے والی متبادل فصلیں آہستہ آہستہ کاشت کے نظام سے خارج ہو رہی ہیں۔ یہ صرف ماحولیاتی نقصان نہیں، بلکہ ایک معاشی ناکامی بھی ہے، جو بڑھتے ہوئے درآمدی بل اور کسانوں کی کمزور ہوتی ہوئی برداشت میں نمایاں ہے۔
سب سے خاموش مگر سب سے تباہ کن نقصان بیج کے نظام کا بکھراؤ ہے۔ کسان بڑی تعداد میں غیر تصدیق شدہ، ناقص یا غیر موزوں بیج استعمال کر رہے ہیں۔ سرکاری شعبے میں تحقیق زوال کا شکار ہے، نجی شعبے کی جدت کمزور نگرانی کی نذر ہو رہی ہے، اور ایسا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں جو طویل المدت سرمایہ کاری کرنے والے بیج تیار کنندگان کو تحفظ اور انعام دے۔ کپاس میں اس کے نتائج خاص طور پر بھیانک ہیں: فرسودہ اقسام، کیڑوں کی بے قابو مزاحمت، اور اس ٹیکنالوجی پر عمومی بداعتمادی جس سے کبھی نجات کی امید وابستہ تھی۔
جب بیج ہی کمزور ہو، تو کوئی کھاد، کوئی زہر، اور کوئی دعا اس خلا کو پُر نہیں کر سکتی۔
پالیسی کا عدم تسلسل باقی تمام کمزوریوں کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ امدادی قیمتوں کا اعلان تاخیر سے ہوتا ہے یا غیر متوقع انداز میں بدلا جاتا ہے۔ درآمد و برآمد کے فیصلے مستند پیداوار کے تخمینوں کے بغیر کیے جاتے ہیں۔ ایک سال کسانوں کو زیادہ بوائی پر اُکسایا جاتا ہے، اگلے ہی سال اسی فیصلے کی سزا دی جاتی ہے۔ یوں فصل کا انتخاب منصوبہ بندی کے بجائے افواہوں، خدشات اور پچھلے سال کی قیمتوں پر مبنی جوا بن جاتا ہے، نہ کہ زرعی سائنس یا قومی ضرورت پر۔
اس تمام پس منظر میں کاشتکاری کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کھاد اور زرعی ادویات کی منڈیاں ملاوٹ اور غلط استعمال سے بھری پڑی ہیں، جو نہ صرف مٹی اور ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ منافع کو بھی دباتی ہیں۔ ان پٹ فراہم کرنے والے اکثر قرض دہندگان کا کردار بھی ادا کرتے ہیں، جس سے کسان انحصار کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ فصل کٹنے پر اسے کم قیمت ملتی ہے، اور چند ماہ بعد وہی کسان سب سے مہنگے داموں ان پٹ خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ نظام قدر کشی میں ماہر ہے — مگر قدر بانٹنے میں ناکام۔
آخری ضرب کیڑوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی صورت میں لگتی ہے۔ کیڑے اس لیے مزاحمت پیدا کر رہے ہیں کہ کیمیکلز کا غلط استعمال عام ہے، فائدہ مند حشرات ختم ہو چکے ہیں، اور موسمی دباؤ فصلوں کے قدرتی دفاع کو کمزور بنا رہا ہے۔ کسان مزید اسپرے کرتا ہے، مگر فصل کم حاصل ہوتی ہے — اور وہ حیران رہ جاتا ہے کہ محنت کا صلہ آخر کہاں گیا۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے کسان ناکام نہیں ہو رہے — انہیں ناکامی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ موسمی جھٹکے، پانی کی کمی، بیج کے نظام کی خرابی، منڈی کے استحصال اور پالیسی کے ابہام سب کچھ بیک وقت، اور اکثر تنہا، برداشت کریں۔ برسوں تک کسانوں کی برداشت نے اس نظام کی نازکی کو چھپائے رکھا، مگر اب وہ برداشت بھی جواب دے رہی ہے۔
زراعت کو نعروں، وقتی پیکجوں یا موسمی بیانات سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اس کے لیے طویل المدت وژن درکار ہے: موسمی دباؤ برداشت کرنے والی اقسام کی تیاری، مؤثر آبی حکمرانی، قابلِ اعتماد بیج ریگولیشن، واضح اور مستحکم قیمتوں کے اشارے، اور ایسی منڈیاں جو سٹے بازی کے بجائے پیداوار کو انعام دیں۔ سب سے بڑھ کر، اس کے لیے سیاسی جرات چاہیے — تاکہ ان مفادات کا سامنا کیا جا سکے جو موجودہ بے ترتیبی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اگر یہ جرات پیدا نہ ہوئی، تو وہاڑی، بہاولپور اور زیریں سندھ کے کھیتوں میں لکھی جانے والی یہ کہانی پورے ملک میں پھیل جائے گی۔ اور پھر ایک دن، بہت دیر ہو جانے کے بعد، پاکستان کو یہ احساس ہوگا کہ غذائی عدم تحفظ اچانک نہیں آیا تھا — وہ خاموشی سے، موسم بہ موسم، اسی وقت جنم لے رہا تھا جب کھیت ناکام ہونا شروع ہو گئے تھے۔