اسلام آباد۔۔۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں اپنے خلاف فیصلہ معطل کرنے کی اپیل سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپیل کی سماعت کی تو عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ روسٹم پر آئے انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے توشہ خانہ (ون) کے مقدمے میں عمران خان کو دی جانے والی سزا کو معطل کیا ہے لیکن ابھی تک اس کیس میں دیے گئے فیصلے کو معطل نہیں کیا گیا ۔انھوں نے کہا کہ فیصلہ معطل نہ ہونے کی بنا پر عمران خان کو الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا، اس کے باوجود کہ ان کی سزا معطل تھی۔
جسٹس ہاشم کاکٹر نے استفسار کیا آپ کی اس اپیل پر فیصلہ نہیں ہوا؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ابھی اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی اپیل میں سزا معطل ہو گئی ہے تو پھر کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے اور الیکشن لڑنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اگر کسی معاملے میں سزا معطل ہو جائے تو بندہ جیل میں رہے گا یا پھر آزاد ہو گا؟ جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سزا معطل ہونے پر بندہ آزاد تصور ہو گا۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کے خلاف اپیل واپس لے لیں جب کہ بشری بی بی کی ضمانت کے خلاف اپیل بھی واپس لے لی گئی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ہدایات ہیں کہ ضمانت کے خلاف اپیلیں واپس لے لی جائیں، جس پر عدالت نے ضمانت کے خلاف اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں