عبدالجبار
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان چین کے ساتھ مزید مضبوط تحقیقی تعاون کے ذریعے اپنے کپاس کے شعبے کو دوبارہ بحال کر سکتا ہے۔ بیجوں کی ٹیکنالوجی، جینیاتی ذخیرے، مشینی کاشتکاری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی اقسام پر مشترکہ کام کئی سالوں سے جاری پیداوار میں کمی کے رجحان کو تبدیل کرنے اور ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خام مال کی بنیاد مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔یہ امکان پاکستان چین جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تحت ہونے والی حالیہ نشست سے مزید مضبوط ہوا ہے جہاں حکام نے مشترکہ افزائشی پروگرامز، چین کی زیادہ پیداوار دینے والی کپاس کی اقسام کے موافقتی تجربات اور سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں بائیوٹیکنالوجی سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ کمرشل ایمبیسیڈر عدیل منور کے مطابق گزشتہ سیزن میں پاکستان کی کپاس کی پیداوار کم ہو کر 5.6 ملین گانٹھوں تک رہ گئی جو تین دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک کی ٹیکسٹائل ملوں کو سالانہ 12 ملین سے زائد گانٹھوں کی ضرورت ہے۔پاکستان چین کامرس الائنس انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر اور چائنا پاکستان انفارمیشن سینٹر کے چیئرمین بلال جنجوعہ کا کہنا ہے کہا کہ چین کے ساتھ زرعی تعاون پاکستان کے کپاس کے شعبے کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ چین دنیا کے بڑے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور کپاس کی مکمل ویلیو چین میں نمایاں تکنیکی مہارت رکھتا ہے۔ پاکستان چینی بیجوں کی ٹیکنالوجی، کاشتکاری کے طریقوں اور تحقیقی تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، بشرطیکہ انہیں مقامی حالات میں مناسب طریقے سے آزمایا جائے۔انہوں نے مزید کہاکہ سنکیانگ اس بات کی مثال ہے کہ مناسب بیجوں کی اقسام، مثر پانی کے انتظام، مشینی کاشتکاری اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے خشک علاقوں میں بھی کامیابی سے کپاس اگائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کپاس کے رقبے میں کمی کی ایک وجہ گنے کی کاشت میں اضافہ بھی قرار دیا کیونکہ گنے سے کسانوں کو زیادہ اور نسبتا یقینی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ملتان کے کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنٹیفک آفیسر شاہد اقبال کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریبا 10 سال چین میں کپاس کی تحقیق پر کام کیا اور اب پنجاب حکومت کے اقدامات کے تحت مقامی کپاس کی پیداوار بہتر بنانے میں معاونت کر رہے ہی۔انہوں نے کہاکہ چین نے سنکیانگ میں ایسے نمائشی مراکز قائم کیے ہیں جہاں کپاس کی پیداوار 125 من فی ایکڑ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ یہ نتائج مسلسل تحقیق، بہتر جینیات، مشینی کاشتکاری اور مکمل فصل انتظامی پیکجز میں سرمایہ کاری کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ بلوچستان، چولستان اور گلگت بلتستان کے منتخب علاقوں کا سائنسی تجربات کے ذریعے جائزہ لیا جائے تاکہ کپاس کے لیے نئے پیداواری علاقے تلاش کیے جا سکیں اور پاکستان کا روایتی کپاس کے علاقوں پر انحصار کم ہو۔انہوں نے چین میں کام کرنے والے پاکستانی کپاس کے محققین کو وطن واپس لانے اور مقامی صنعت میں ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کے لیے مراعات دینے کا بھی مطالبہ کیا۔