جانوٹ جیل میں قید فلسطینی شدید مشکلات کا شکار

فرخ تنویرملک

مقبوضہ بیت المقدس۔۔۔۔جانوٹ جیل میں قید فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہوگئے جہاں وہ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلسطین میں قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور کے کمیشن نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدیوں کے لئے جانوٹ جیل میں انسانی حالات سخت پابندیوں، سزائوں اور بنیادی ضروریات سے محرومی کے باعث شدید حد تک بگڑتے جا رہے ہیں حالانکہ یہ ضروریات بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت ضمانت شدہ ہیں۔کمیشن نے کہا کہ متعدد قیدیوں سے ملاقات اور ان کی شہادتیں سننے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جیل حکام واشنگ مشین کو صرف ہر 12 سے 14 دن بعد استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں جس سے قیدیوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔کمیشن نے کہا کہ قیدیوں کو مسلسل مارپیٹ اور جبر کا سامنا ہے جبکہ مناسب صحت کی سہولتیں اور ذاتی بنیادی ضروریات فراہم نہیں کی جاتیں، مزید کہا گیا ہے کہ بعض کمروں میں 12 قیدی رکھے گئے ہیں لیکن بستروں کی تعداد صرف 10 ہے جس کے باعث دو قیدیوں کو فرش پر سونا پڑتا ہے۔رپورٹ کے مطابق جیل حکام قیدیوں کو پیٹ کے بل سونے پر مجبور کرتے ہیں اور صبح کی گنتی کے بعد شام تک ان کے گدے ہٹا دیتے ہیں، کمیشن نے کہا کہ جیل کے حصے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جن میں ریزر اور نیل کٹر قیدیوں کے درمیان مشترکہ طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور کے کمیشن نے بین الاقوامی اور انسانی اداروں بالخصوص انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس سے اپیل دہرائی کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کریں اور فلسطینی قیدیوں کے خلاف کی جانے والی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کریں تاکہ انہیں بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت کم از کم حقوق فراہم کیے جا سکیں۔کمیشن نے مزید کہا کہ اوفر جیل میں فلسطینی قیدیوں کے صحت کے حالات بدستور خراب اور مشکل ہیں کیونکہ جیل انتظامیہ کی طرف سے مسلسل سزا اور انتقامی پالیسیوں نے ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں اور ان کی صحت و جسمانی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x