کراچی سرکاری اسپتالوں میں فائر الارم سسٹم نہ ہونے کا انکشاف

فرخ تنویرملک

کراچی۔۔۔۔اسلام آبادکے پمز اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر الارم سسٹم نہ ہو نے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ راولپنڈی کے بڑے اسپتال بھی غیرمحفوظ اور آتشزدگی کے خطرے سے دوچار ہیں ،پنجاب کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کے اطراف فائرہائیڈرنٹس بنانے کا حکم جاری کردیا گیا ہے ۔رپورٹس کے مطابق کے ایم سی کے عباسی شہید اسپتال میں صرف 13 فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں۔اسپتال ذرائع کے مطابق اسپتال میں موجود عملے کو فائر ڈرل یا فائر سیفٹی کی باقاعدہ تربیت بھی نہیں دی گئی، جب کہ اسپتال میں فائر الارم سسٹم بھی نصب نہیں اور ہنگامی اخراج کیلئے کوئی مخصوص راستہ بھی نہیں ہے۔عباسی شہید اسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ سیکڑوں اور او پی ڈی میں ہزار سے زائد مریض آتے ہیں۔ عباسی شہید اسپتال کے 2 جنریٹرز میں سے ایک بیک اپ کے لیے مختص ہے۔ایم ایس عباسی شہید اسپتال نے میڈیا کو بتایا کہ اسپتال میں فائر سسٹم سے متعلق مزید اقدامات کررہے ہیں۔دوسری جانب جناح اسپتال کے ہر وارڈ میں فائر ایکسٹنگوشرز تو ہیں تاہم ان میں سے متعدد غیر فعال ہیں۔اسپتال ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں آخری فائر ڈرل 2017 میں ہوئی تھی۔ اسپتال میں فائر الارم سسٹم بھی نصب نہیں ہے۔جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال کے مطابق فائر فائٹنگ کی ٹیم بنانی ہے، اسپتال کے ہر وارڈ میں ایک فائر ایکسٹنگوشرز ہے، سندھ حکومت کو عملے کی مزید ٹریننگ کیلئے خط لکھیں گے۔ادھر سول اسپتال میں 180 فائر ایکسٹنگوشرز اسپتال کے ہر وارڈ میں موجود ہیں تاہم یہاں بھی سیفٹی انتظامات آئیڈیل نہیں۔ دوسری جانب پنجاب کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کے اطراف فائرہائیڈرنٹس بنانیکا حکم دے دیا گیا۔ترجمان محکمہ ہاسنگ پنجاب کے مطابق صوبے بھر کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کے اطراف فائرہائیڈرنٹس بنانیکا حکم دیا گیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں 57 سرکاری اسپتالوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ واسا کو اہم مقامات کی نشاندہی اور فائر ہائیڈرنٹس بنانے کا ٹاسک تفویض کیا گیا ہے۔ادھر پمز سانحے کے بعد ریسکیو حکام نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی کے بڑے اسپتال بھی غیر محفوظ اور فائر رسک کا شکار ہیں۔ریسکیو حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نجی ٹی وی ک بتایا کہ بینظیربھٹو اسپتال اور ہولی فیملی اسپتال غیرمحفوظ ہیں، اسپتالوں میں فائر سیفٹی نظام کی مکمل تنصیب نہیں ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق پی کے ایل آئی یورالوجی اسپتال کا فائرسیفٹی سسٹم غیر فعال ہے، راولپنڈی کے دیگر سرکاری اسپتال بھی فائر رسک سے دوچار ہیں۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی ایگزٹ نہ ہونے کے برابر ہیں، اگر کسی اسپتال میں ایمرجنسی ایگزٹ ہے بھی تو وہ بند ہے یا اس پر تالے لگے ہیں۔کام کے مطابق اسپتالوں میں آگ بجھانے کے آلات کی تعداد بہت کم ہے، سرکاری اسپتالوں میں فائر ڈیٹیکشن کا نظام موجود نہیں، اسپتالوں میں فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب بھی نہیں ہوئی۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x