پاکستان میں کھاد کی ترسیل اب بھی بڑا چیلنج

عبدالجبار

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں متوقع طلب پوری کرنے کے لیے یوریا کھاد کی وافر مقدار موجود ہے تاہم کھاد کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسانوں کو بروقت کھاد کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تقسیم کا مثر نظام، طلب کی درست پیش گوئی اور ہنگامی ذخائر برقرار رکھنا اب بھی اہم چیلنجز ہیں جو خصوصا فصلوں کی بوائی کے اہم موسموں میں درپیش ہیں۔پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ربیع 2025-26 کے دوران یوریا کی دستیابی 43 لاکھ 82 ہزار ٹن رہی جبکہ کھپت 35 لاکھ 64 ہزار ٹن تھی جس کے نتیجے میں خریف 2026 کے لیے 8 لاکھ 3 ہزار ٹن کا ذخیرہ موجود رہا۔سروے کے مطابق خریف 2026 کے دوران یوریا کی مجموعی دستیابی 38 لاکھ 47 ہزار ٹن رہنے کی توقع ہے جبکہ اندازا طلب 33 لاکھ 64 ہزار ٹن ہے جو مجموعی طور پر کھاد کی تسلی بخش فراہمی کی نشاندہی کرتی ہے۔اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں یوریا کی پیداواری صلاحیت اس وقت ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ کھاد کے کارخانے مکمل صلاحیت پر کام کریں۔ اپریل 2023 سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ سے منسلک دو کارخانوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی نے اضافی ذخائر اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ملک میں یوریا کی مجموعی دستیابی مناسب ہونے کے باوجود صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کھاد زرعی علاقوں میں مثر انداز میں تقسیم ہو اور مناسب وقت پر کسانوں تک پہنچے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کو مضبوط ہنگامی ذخائر اور زیادہ مثر تقسیم کے نظام کی ضرورت ہے تاکہ کھاد کی بروقت دستیابی یقینی بنائی جا سکے جو خصوصا فصلوں کی بوائی کے اہم ادوار میں ہو۔ زرعی علاقوں میں مناسب مقامات پر قائم اضافی ذخائر عارضی طور پر پیدا ہونے والی رسد کی رکاوٹوں کو برداشت کرنے اور زیادہ طلب والے علاقوں میں مقامی سطح پر کھاد کی قلت کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں یوریا کی موجودہ تسلی بخش صورتحال برقرار رکھنے کے لیے مسلسل گیس اور توانائی کی فراہمی کے ذریعے موجودہ کھاد کارخانوں کی کارکردگی اور قابلِ اعتماد پیداوار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ڈی اے پی اور دیگر ایسی کھادوں کے لیے جو جزوی طور پر درآمدات پر منحصر ہیں، خریف اور ربیع کے موسموں سے کافی پہلے خریداری کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے جبکہ طلب کی پیش گوئی زیرِ کاشت رقبے، علاقائی ضروریات اور گزشتہ برسوں کی کھپت کی بنیاد پر کی جائے۔ کھاد بنانے والی کمپنیوں اور ڈیلروں کا بھی اہم کردار ہے کہ وہ علاقائی اور ضلعی سطح پر مناسب ذخائر برقرار رکھیں اور آخری مرحلے تک کھاد کی ترسیل کو بہتر بنائیں۔ صوبائی حکام کو مارکیٹ کی نگرانی مضبوط کرنی چاہیے، ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ دستیاب کھاد منصفانہ اور بروقت انداز میں کسانوں تک پہنچے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x