فرخ تنویر ملک
تہران۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایران نے امریکی فورسز کی جانب سے 5 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد میزائل داغنے کا دعوی کیا ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے خلیج فارس میں 20 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ بحریہ نے خلیج فارس میں 2 امریکی بحری جہازوں اور 8 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے مزید 10 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ جہاز آبنائے ہرمز کے ایک ممنوع اور غیر محفوظ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے یہ حملہ ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا، امریکا سے انتقام لیتے ہوئے دشمن کو غیر معمولی نقصان پہنچایا گیا ہے۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکا کے آئل ٹینکرز پر حملے کے بعد اردن کے الازرق میں واقع امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فورسز کے حملوں کے جواب میں اردن میں الازرق امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں الازرق میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔پاسدارانِ انقلاب کاکہنا ہے یہ حملہ ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا سے انتقام لیتے ہوئے دشمن کو غیرمعمولی نقصان سے دوچار کیا۔ادھرروسی میڈیا کا کہنا ہے کہ اردن میں پینٹاگون کا ڈیفنس نظام ایرانی میزائل روکنے کیلئے فعال ہوگیا ہے۔ اردنی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے 20 میزائل داغے، 18روک لیے گئے،2 آبادی سے باہر گرے۔اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ایران کے 5 خام تیل بردار بحری جہاز تباہ کردئیے ہیں۔سینٹکام کے مطابق کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے 2 روز کے دوران امریکی بحری جنگی جہاز کو 2 مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد کی گئی