عبدالجبار
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت مجوزہ قومی صنعتی پالیسی 2026 کے تحت نئی اعلی ٹیکنالوجی کی صنعتوں جن میں برقی گاڑیاں، بیٹریاں اور ڈیٹا مراکز شامل ہیں، کے لئے خصوصی بجلی کے نرخ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ دستاویز کے مطابق مجوزہ اقدام صنعتی شعبے کی لاگت کے حوالے سے مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے اور نئی و جدید صنعتوں میں سرمایہ کاری راغب کرنے کی حکومت کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔قومی صنعتی پالیسی کے مطابق حکومت توانائی کی ترسیلی پالیسی پر مکمل عمل درآمد اور برآمدی صنعتوں پر اس کے اثرات کی باقاعدہ نگرانی کی حمایت کرتی ہے۔ پالیسی میں نئی اعلی ٹیکنالوجی اور ماحول دوست صنعتوں کے لیے خصوصی نرخ تجویز کیے گئے ہیں جو بجلی کی اضافی پیداواری لاگت سے معمولی زیادہ ہوں گے۔مجوزہ بجلی نرخوں کے نظام میں برقی گاڑیوں، بیٹریوں کی تیاری اور ڈیٹا مراکز کو خصوصی بجلی سہولت سے فائدہ اٹھانے والے شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔اس اقدام سے پاکستان میں نئی صنعتی سرمایہ کاری کو درپیش ایک بڑے بنیادی مسئلے، یعنی توانائی کی بلند قیمت، کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کو زیادہ مسابقتی بنایا جاسکتا ہے۔قومی صنعتی پالیسی میں موجودہ صنعتی یونٹس کے لیے بھی کم نرخ تجویز کیے گئے ہیں جو مقررہ حد سے زیادہ اضافی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اس اقدام سے صنعت کاروں کو پیداوار بڑھانے اور پیداواری سرگرمیوں کے لیے زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔بجلی کے نرخوں میں اصلاحات کے ساتھ پالیسی میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے کیونکہ صنعتی توسیع اور اعلی ٹیکنالوجی کی سرگرمیوں کے لیے بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی ضروری ہے۔یہ تجویز وسیع تر رسدی شعبے میں اصلاحات کے پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت حکومت پیداواری لاگت کم، صنعتی بنیادی ڈھانچہ بہتر اور زیادہ پیداواری صلاحیت اور برآمدی امکانات رکھنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے۔بجلی کی لاگت سے متعلق یہ اقدام 19 نکاتی صنعتی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کے صنعتی شعبے کو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، روزگار اور برآمدات کے اہم محرک کے طور پر دوبارہ مضبوط کرنا ہے۔قومی صنعتی پالیسی میں توانائی اور پیداواری خام مال کی بلند قیمتوں کو ان بنیادی رکاوٹوں میں شامل کیا گیا ہے جنہوں نے صنعتی مسابقت کو کمزور کیا ہے۔ اسی لیے پالیسی میں لاگت میں کمی کو صنعتی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنایا گیا ہے۔پالیسی میں برآمد کنندگان کے زیر استعمال درآمدی خام مال پر عائد محصولات جیسے ٹیکس کم کرنے، صنعتی زمین اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے اور افرادی قوت کی مہارتوں کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی بھی تجاویز دی گئی ہیں۔اگر مجوزہ بجلی مراعات مثر انداز میں نافذ ہوجاتی ہیں تو پاکستان میں برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور ڈیٹا مراکز میں سرمایہ کاری کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں جبکہ موجودہ صنعتی یونٹس کو بھی اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ترغیب مل سکتی ہے۔تاہم دستاویز میں مجوزہ بجلی نرخوں کو مالی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق عوامل کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے، اس لیے ان کے عملی نفاذ اور اصل نرخوں کا تعین اس بات میں اہم کردار ادا کرے گا کہ ان مراعات کا حقیقی اثر کتنا ہوتا ہے۔قومی صنعتی پالیسی کا وسیع تر مقصد پاکستان کو پیداواری صنعت کے لیے کم لاگت، زیادہ قابلِ اعتماد اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ملک بنانا ہے جبکہ زیادہ پیداواری صلاحیت، اضافی قدر اور برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کو فروغ دینا بھی اس کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔