کلاس میں ذہنی غیرحاضر طالبات کی سوچ کون پڑھے

الویرا وقاص

ثمن آٹھویں جماعت کی طالبہ ہیں اور ساہیوال کے نواحی  گاؤں میں رہتی ہیں۔ 14 سالہ ثمن ایک سرکاری سکول میں زیرِ تعلیم ہیں۔

وہ کہتی ہیں، “مجھے پڑھنا بہت پسند ہے اور مجھے سکول جانا بھی بہت اچھا لگتا ہے۔ سکول میں سب سے اچھا وقت تب ہوتا ہے جب میں اپنی پسندیدہ ٹیچر سے بات کرتی ہوں۔ مشکل وقت تب آتا ہے جب کسی ٹیچر کا دیا ہوا کام نہ آتا ہو، سبق یاد نہ ہو یا میری دوست سکول نہ آئی ہو۔ ایسے میں سارا دن بورنگ گزرتا ہے۔”

کتابیں پڑھنا ثمن کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ سکول کی چھٹیوں کے دوران انہیں کتابیں پڑھنے کے لیے کافی وقت مل جاتا تھا، لیکن سکول کھلنے کے بعد مشکل سے 20 منٹ ہی بچتے ہیں۔

“زیادہ تر تو میں پڑھ بھی نہیں پاتی۔ میں نے لائبریری سے دو کتابیں لی تھیں، لیکن ابھی مشکل سے ایک ہی پڑھ پائی ہوں۔”

ثمن کے مطابق سکول سے گھر واپس آنے کے بعد ان کا زیادہ وقت مختلف تعلیمی اور مذہبی مصروفیات میں گزر جاتا ہے۔ سکول کے مختلف مضامین کا ہوم ورک بھی ان کے لیے تعلیمی دباؤ کا ایک بڑا سبب ہے۔

“مجھے روزانہ لگتا ہے کہ سکول میں نو مضامین ہوتے ہیں اور ان سب کا اتنا سارا کام ملتا ہے کہ کبھی کبھی میں تمام مضامین کا کام بھی نہیں کر پاتی۔ ہر ٹیچر صرف اپنے مضمون کے بارے میں سوچتی ہیں، لیکن طالب علم کا کوئی نہیں سوچتا۔”

امتحانات قریب آتے ہی ثمن  جسمانی اور جذباتی دباؤ محسوس کرنے لگتی ہیں۔ وہ سر درد، نیند میں دشواری، چڑچڑے پن اور پیٹ میں درد کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں:

“جب امتحانات قریب آتے ہیں تو سر میں درد ہوتا ہے، نیند مشکل سے آتی ہے، چڑچڑا پن رہتا ہے، پیٹ میں درد ہوتا ہے اور میں سب سے غصے سے بات کرنے لگتی ہوں۔”

امتحان میں توقع کے مطابق نمبر نہ آنے پر بھی ثمن ذہنی دباؤ محسوس کرتی ہیں۔

“اگر کبھی میرے نمبر اچھے نہ آئیں تو میرا کسی سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا۔ سب سے پہلے خیال آتا ہے کہ میں نے اتنی اچھی تیاری کی تھی، یہ کیا ہوگیا؟”

اس دوران سکول کی ایک ٹیچر ثمن کے لیے جذباتی سہارا بھی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ سکول میں ایک ایسی ٹیچر موجود ہیں جن سے وہ اپنی بات بلا جھجھک کر سکتی ہیں۔

“گھر میں کچھ مسائل چل رہے تھے تو میں بہت زیادہ ڈپریشن میں چلی گئی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کس سے بات کروں، اور میری پرفارمنس بھی پڑھائی میں اچانک خراب ہو گئی تھی۔ پھر میں نے اپنی ٹیچر سے شیئر کیا۔ میں ان سے کسی بھی قسم کی بات کرنے سے نہیں گھبراتی۔ وہ بہت حوصلہ دیتی ہیں۔”

ثمن کے خیال میں اگر سکولوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے بات کرنے اور مدد حاصل کرنے کے مواقع آسان بنائے جائیں تو طالبات کے لیے اپنی پریشانیاں بیان کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

“اگر سکول میں ذہنی صحت کے حوالے سے بات کرنا یا مدد لینا آسان بنا دیا جائے تو یہ بہت اچھا ہوگا۔ انسان اپنے دل کی پریشانی بیان کر دے تو دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور پریشانی بھی کم ہوگی۔”

استاد کی نظر میں

مس شازیہ ساہیوال کے نواحی گاؤں کے ایک سرکاری سکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب کوئی بچی اپنی پریشانی ان کے پاس لے کر آتی ہے تو وہ اس کی بات سنتی ہیں، اس کی کونسلنگ کرتی ہیں اور اسے امید دلاتی ہیں کہ حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی بچی کو مالی مدد درکار ہو تو وہ اپنی ذاتی حیثیت میں اس کی مدد بھی کرتی ہیں۔

ان کے مطابق استاد کی شخصیت ایسی ہونی چاہیے کہ بچے اپنی پریشانیاں اس کے ساتھ شیئر کر سکیں اور خود کو پُرسکون محسوس کریں۔

مس شازیہ کہتی ہیں کہ ان کے سکول میں تین بچیوں کے ایسے کیس سامنے آئے جنہیں مرگی کی بیماری تھی، تاہم ان کے گھر والے اسے “جن کا سایہ” سمجھتے تھے۔ ایک بچی نے انہیں بتایا کہ وہ ڈپریشن کی دوا لے رہی ہے، لیکن ذہنی صحت سے متعلق بیماریوں کے ساتھ جڑے سماجی رویوں کے باعث بچیاں اپنی کیفیت بتانے سے گریز کرتی ہیں۔

وہ ایک ایسی بچی کا ذکر بھی کرتی ہیں جو ریاضی کے مضمون میں کمزور تھی اور شدید ڈپریشن کا شکار تھی۔ اس کے والدین سمجھتے تھے کہ اس پر جن کا سایہ ہے۔ بعد ازاں بچی نے سکول چھوڑ دیا اور جب اسے ماہرِ نفسیات کے پاس لے جایا گیا تو اس کی حالت بہتر ہوئی۔

مس شازیہ کے مطابق گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ بھی طالبات کی تعلیم اور ذہنی کیفیت کو متاثر کرتا ہے۔ ان کے سکول میں بعض بچیاں گھر جا کر گھریلو کام کرتی ہیں۔ ان کی کلاس کی دو بچیاں اکثر دیر سے آتی ہیں اور ان کا سکول کا کام بھی مکمل نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ایک ہی گھر میں نو بہنیں ہیں؛ ایک بچی بتاتی ہے کہ وہ اپنی بہنوں کے لیے ناشتہ تیار کر رہی تھی، جبکہ دوسری کبھی کبھی کلاس میں سو جاتی ہے کیونکہ اس کی نیند پوری نہیں ہوتی۔

وہ کہتی ہیں کہ آٹھویں جماعت میں پڑھنے والی بچیوں پر گھریلو کاموں کا اتنا بوجھ ہوتا ہے کہ اس سے ان کی اپنی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

مس شازیہ کے مطابق سکولوں میں بچوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے باقاعدہ طور پر زیادہ کام نہیں ہو رہا۔ عموماً کوئی استاد کسی بچے کو پریشان دیکھے تو اسے بلا کر اس کی بات سن لیتا ہے اور کونسلنگ کر دیتا ہے۔

والدین کا رویہ

مس شازیہ کے مطابق والدین کی ماہانہ میٹنگز میں بھی اکثر والدین کا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ اگر بچی پڑھائی میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہی تو اسے ڈانٹا یا مارا جائے۔

وہ کہتی ہیں، “بہت کم والدین ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ بچی کے گھر میں یہ مسئلہ تھا، تو آپ بچی کا خیال رکھیں اور اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔”

ان کے مطابق بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور تربیت کی تمام ذمہ داری سکول کی ہے۔

مس شازیہ تعلیمی نظام میں نمبروں کی دوڑ کو بھی بچوں کے دباؤ کی ایک وجہ قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ہر بچہ مختلف صلاحیت رکھتا ہے؛ کوئی ریاضی میں اچھا ہوتا ہے، کوئی انگریزی میں اور کوئی اردو میں، اس لیے ایک بچے سے تمام مضامین میں یکساں کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

وہ اپنی کلاس کی ایک پوزیشن ہولڈر طالبہ کی مثال دیتی ہیں جو ذہین تھی، لیکن ریاضی میں اس کے نمبر کم آتے تھے۔ مس شازیہ کے مطابق وہ اس بات کو لے کر اتنے دباؤ میں آگئی کہ آٹھویں جماعت کے بعد نویں جماعت میں داخلہ ہی نہیں لیا۔

مس شازیہ کہتی ہیں کہ جب وہ کلاس میں کسی بچی کو خاموش یا روتے ہوئے دیکھتی ہیں تو اسے اپنے پاس بلا کر اس کی بات سنتی ہیں۔ ایک مرتبہ ایک بچی روتے ہوئے ان کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کی والدہ اسے مارتی ہیں، کیونکہ سکول سے واپسی پر تھکن کے باعث وہ گھر کا کام نہیں کر پاتی۔ بچی نے یہ بھی بتایا کہ اس کے والد نے دوسری شادی کر لی ہے اور وہ گھر سے بھاگ جانا چاہتی ہے۔

ان کے مطابق بعض بچیاں گھر کے معاشی مسائل بھی بیان کرتی ہیں۔ کوئی بتاتی ہے کہ والد کام نہیں کر رہے یا انہیں کام نہیں مل رہا، جبکہ ایک بچی نے بتایا کہ بھائی نہ ہونے کی وجہ سے جائیداد کے معاملے پر گھر میں تنازع ہے۔ مس شازیہ کے مطابق ایسے مسائل بھی بچوں کو ذہنی طور پر پریشان کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ بعض بچیاں کلاس میں جسمانی طور پر موجود ہوتی ہیں لیکن ذہنی طور پر غیر حاضر ہوتی ہیں۔

اساتذہ کی تربیت کی ضرورت

مس شازیہ کے مطابق اساتذہ کو بچوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کے الفاظ اور رویے بچوں کے ذہن پر کیا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

تاہم وہ اساتذہ پر موجود دباؤ کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اساتذہ سے بچوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی توقع کی جاتی ہے اور جب بچے بہتر کارکردگی نہیں دکھاتے تو اس کا دباؤ سکول ہیڈ سے اساتذہ اور پھر طلبہ تک منتقل ہوتا ہے۔

وہ اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ پہلے ایک فرینڈلی استاد تھیں اور بچیاں اپنی پریشانیاں ان کے ساتھ شیئر کرتی تھیں، لیکن بعد میں بچوں کی کارکردگی بہتر نہ ہونے اور سکول انتظامیہ کے دباؤ کے باعث انہیں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی۔

مس شازیہ کے مطابق تعلیمی نظام میں بچوں کی ذہنی صحت کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کو اتنی لچک دی جانی چاہیے کہ وہ گھریلو پریشانیوں کے باعث بہتر کارکردگی نہ دکھانے والے بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آ سکیں۔

وہ اساتذہ کی باقاعدہ تربیت کے ساتھ اس تربیت پر مناسب نگرانی اور عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہیں۔

ان کے مطابق ذاتی سطح پر بھی استاد کسی پریشان بچے سے بات کر کے اور اسے تسلی دے کر مدد کر سکتا ہے۔

“استاد کو طالب علم ایک انسان کی حیثیت سے دکھنا چاہیے، نہ کہ صرف ایک طالب علم کی۔”

مس شازیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے سرکاری سطح پر اساتذہ کو ذہنی صحت کے حوالے سے کسی باقاعدہ تربیت یا مدد کے مواقع بہت کم دیکھے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی بچے کے گھر والے سکول کو بتائیں کہ گھر میں مسائل چل رہے ہیں تو زیادہ سے زیادہ چند دن کی چھٹی دی جا سکتی ہے۔

ماہرِ نفسیات کی رائے

مس فاریہ رحمان کلینیکل سائیکالوجسٹ ہیں اور پہچان تنظیم کے ساتھ چائلڈ سپروائزر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

بچیوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ گھروں سے ہی بچیوں کے ساتھ صنفی بنیاد پر تفریق شروع ہو جاتی ہے، جو ان کے مطابق ڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق بلوغت کی جانب بڑھنے والی بچیوں کو کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اس مرحلے پر موڈ میں تبدیلی اور جسم میں ہارمونز کی تبدیلیاں ہوتی ہیں، جبکہ انہیں گھر اور سکول دونوں جگہ مناسب رہنمائی نہیں ملتی۔

فاریہ رحمان کے مطابق بچیوں کو گھر میں صنفی تفریق کے ساتھ ساتھ سکول میں بھی اسی نوعیت کے رویوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وہ گھر میں ہراسمنٹ کے واقعات کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں۔ ان کے مطابق گھر آنے جانے والے مختلف افراد کی جانب سے بچیوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں، لیکن خوف کے باعث بچیاں اس بارے میں بات نہیں کرتیں، جس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق سوشل میڈیا پر موجود انفلوئنسرز سے خود کا موازنہ کرنا بھی بعض بچیوں میں ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ والدین کے ساتھ کمیونیکیشن گیپ اور مناسب غذا نہ ملنا بھی ان کے مطابق بچیوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

فاریہ رحمان کے مطابق سکولوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے اساتذہ کی مناسب تربیت نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بعض اوقات اگر کوئی بچی اپنے مسئلے کے بارے میں بتا دے تو اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بچیاں اپنے مسائل شیئر کرنے سے گریز کرتی ہیں۔

وہ مشورہ دیتی ہیں کہ بچیوں کو اپنی کیفیت پر توجہ دینی چاہیے، یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کب اور کن باتوں سے پریشان ہوتی ہیں اور اپنی پریشانی کسی ایسے قابلِ اعتماد فرد، مثلاً والدہ، بہن یا خالہ کے ساتھ ضرور شیئر کرنی چاہیے جس پر وہ اعتماد کرتی ہوں۔

اگر بات کرنے کے باوجود طبیعت بہتر نہ ہو تو ان کے مطابق ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔

کن علامات پر توجہ ضروری ہے؟

فاریہ رحمان کے مطابق درج ذیل علامات کی صورت میں تجربہ کار ماہرِ نفسیات سے رابطہ کرنا چاہیے:

  • جسمانی، جنسی یا جذباتی تشدد کا شکار ہونا
  • گھر والوں کی طرف سے غفلت یا نظرانداز کیے جانے کا احساس
  • تحفظ سے متعلق خدشات
  • نیند نہ آنا یا ڈراؤنے خواب آنا
  • خوف محسوس کرنا
  • کسی سے بات کرنے کو دل نہ کرنا یا خاموش رہنے کو دل کرنا
  • پریشانی، اداسی یا بے چینی محسوس کرنا
  • دل گھبرانا
  • غصہ آنا
  • نشے کا عادی ہونا
  • کسی قسم کا خوف یا فوبیا ہونا
  • پڑھائی میں دل نہ لگنا یا کارکردگی میں کمی ہونا
  • خود اعتمادی میں کمی ہونا
  • کسی گہرے صدمے کے بعد اداس یا پریشان رہنا

نوٹ: اس تحریر میں بچی، ٹیچر اور گاؤں کے نام ان کی اور ان کے خاندان کی رازداری اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیل کیے گئے ہیں۔

3
Show Comments (1) Hide Comments (1)
1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
ارشد محمود خان
ارشد محمود خان
1 day ago

ایک بہت ہی اہم موضوع پر ایک بہت ہی جامع تحریر۔ اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ والدین اور اساتذہ کے ساتھ شیئر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچیوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے آگہی بڑھے۔

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x