فرخ تنویرملک
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چین کی جانب سے پاکستان کو جانوروں کے علاج اور بچا کے لیے ویکسین کی 3 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے سے مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔ اس اقدام نے دیہی آمدنی اور جانوروں کی پیداواری صلاحیت کے تحفظ کے لیے بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن اور ویٹرنری سہولیات کا مستقل نظام قائم کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے۔یہ ویکسین لمپی اسکن بیماری اور بروسیلوسس پر قابو پانے کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق ان ویکسینوں کو متعلقہ تکنیکی تقاضوں کے تحت استعمال کیا جائے گا جن میں مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا، نگرانی اور صوبائی محکمہ لائیوسٹاک کے ساتھ رابطہ کاری شامل ہیں۔یہ اقدام معاشی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ لائیوسٹاک پاکستان کے زرعی شعبے کا سب سے بڑا ذیلی شعبہ ہے۔ پاکستان کے اقتصادی جائزے 2025-26 کے مطابق لائیوسٹاک کا زرعی شعبے کی مجموعی قدر میں اضافے میں حصہ 62.45 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 14.64 فیصد رہا جبکہ اس شعبے نے سال کے دوران 3.75 فیصد ترقی کی۔پاکستان کی زرعی مردم شماری 2024 کے مطابق ملک میں 5 کروڑ 58 لاکھ 60 ہزار گائے، 4 کروڑ 77 لاکھ 40 ہزار بھینسیں، 4 کروڑ 45 لاکھ 90 ہزار بھیڑیں اور 9 کروڑ 58 لاکھ 30 ہزار بکریاں موجود تھیں۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جانوروں کی بیماریوں سے دیہی خاندانوں کے کتنے بڑے معاشی اثاثے متاثر ہو سکتے ہیں۔دنیا بھر میں جانوروں کی صحت سے متعلق ادارے بیماریوں کی روک تھام کو معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور صحتِ عامہ کا اہم معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے حیوانی صحت کے مطابق لمپی اسکن بیماری پر قابو پانے کے لیے ویکسینیشن، بروقت تشخیص، حیاتیاتی تحفظ اور جانوروں کی نقل و حرکت پر نگرانی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بروسیلوسس بھی ایسی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے اور مویشی پالنے والوں کو بھاری معاشی نقصان پہنچا سکتی ہے۔پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے تحت مانٹین ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کے سابق سربراہ شیر احمد کے مطابق ویکسینیشن کی معاشی اہمیت صرف جانوروں کو مرنے سے بچانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے فوائد کہیں زیادہ وسیع ہیں۔انہوں نے کہاکہ مویشیوں کی بیماریاں براہِ راست کسانوں کی آمدنی، پیداواری صلاحیت اور غذائی تحفظ کو متاثر کرتی ہیں۔ لمپی اسکن بیماری سے دودھ کی پیداوار کم ہوتی ہے، جانوروں کی افزائشِ نسل متاثر ہوتی ہے اور کھالوں کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ بروسیلوسس سے تولیدی نقصانات ہوتے ہیں اور یہ انسانوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔احمد نے کہا کہ چین کی جانب سے فراہم کردہ ویکسین کو ایک مرتبہ کی تقسیم کے بجائے بیماریوں پر قابو پانے کے ایک منظم پروگرام کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ان کے مطابق ویکسینیشن کا تعین بیماریوں کے پھیلا کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے تشخیصی ٹیسٹ، بیماریوں کی نگرانی، ویکسین کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنے، جانوروں کی شناخت اور ویکسینیشن کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔اس نظام کی ضرورت کو پالیسی سطح پر بھی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔