رشید چودھری
واج فیچر
افغان سرحد کھلنے یا بند رہنے کی بحث نے پنجاب کے آلو کے کاشتکار کو جکڑ رکھا ہے۔ سوال یہ نہیں رہا کہ آلو افغانستان جائے گا یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان افغانستان سمیت اپنے تمام ممکنہ خریداروں تک آلو پہنچانے میں کامیاب بھی ہو جائے تو کیا اتنی گنجائش موجود ہے کہ موجودہ اضافی پیداوار کھپ سکے؟ اعدادوشمار اس حوالے سے خاصے بے رحم ہیں اور کاشتکاروں کے لیے امید شکن۔
رواں سیزن میں انتہائی معتدل تخمینوں کے مطابق بھی پاکستان میں آلو کی پیداوار ایک کروڑ ٹن سے تجاوز کرنے جا رہی ہے۔ ملک میں فی کس کھپت کا فیاضانہ تخمینہ بھی چوبیس کلوگرام کے قریب ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملکی سطح پر سالانہ طلب باسٹھ لاکھ ٹن کے لگ بھگ بنتی ہے۔ یوں کم ازکم چالیس سے پچاس لاکھ ٹن آلو ایسا ہے جس کے لیے پاکستان کے اندر کوئی قدرتی خریدار موجود نہیں۔ یہی وہ اضافی مقدار ہے جسے برآمدات کے ذریعے مارکیٹ سے نکالنے کی امید باندھی جاتی ہے اور یہی وہ مقدار ہے جو منڈیوں میں قیمت کے کریش کا اصل سبب بنتی ہے۔ پچھلے سال بھی پیداوار بھی بہت زیادہ تھی مگر افغان تجارت کھلی تھی اور سیزن میں افغانستان اور وسطی ایشیا کو آلو برآمد بھی ہو رہا تھا، اس لیے بیوپاریوں نے کسان سے اچھی قیمت پر اضافی پیداوار خرید کر سٹور کر لی مگر بیوپاریوں کی ایکسپورٹ کی آس پوری نہیں ہوئی کیونکہ پاکستان کے برآمدی آلو کی روایتی منڈیوں میں آلو وافر موجود تھا یا اس کی قیمت کم لگ رہی تھی۔ آلو کی قیمت اکتوبر 2025 سے ہی کریش کرنا شروع ہو گئی تھی، دسمبر میں یہ البتہ نئے نکتہ زوال پر پہنچی کہ سٹور کی فاضل پیداوار اور نئی فصل کی آمد سے منڈیاں آلوؤں سے بھر گئیں۔
کتنی ایکسپورٹ ممکن ہے؟
اگر ہم جذباتی اندازوں اور بارڈر کھلنے سے جڑی نفسیاتی امیدوں کو ایک طرف رکھ کر محض یہ دیکھیں کہ پاکستان کے روایتی اور ممکنہ خریدار ممالک سالانہ کتنا آلو درآمد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو تصویر خاصی واضح ہو جاتی ہے۔ افغانستان کی مجموعی سالانہ طلب تیرہ لاکھ ٹن سے کچھ زائد ہے ہے جس میں سے دس لاکھ ٹن کے لگ بھگ مقامی پیداوار سے پوری ہو جاتی ہے۔ بہترین حالات میں بھی افغانستان پاکستان سے ساڑھے تین لاکھ ٹن سے زیادہ آلو نہیں خرید سکتا ۔ سری لنکا کی کل سالانہ درآمدی ضرورت ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ ٹن کے درمیان ہے اور اس میں پاکستان پہلے ہی مرکزی سپلائر ہے، لہٰذا یہاں مزید گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ خلیجی ممالک، جن میں یو اے ای، قطر، عمان اور سعودی عرب شامل ہیں، حجم کے اعتبار سے محدود منڈیاں ہیں اور یہ سب مل کر بھی سالانہ دو سے اڑھائی لاکھ ٹن سے زیادہ آلو جذب نہیں کر سکتیں، وہ بھی مختلف سپلائرز میں تقسیم ہو کر۔

جہاں تک وسطی ایشیا کا تعلق ہے، جسے حالیہ دنوں میں حکومت متبادل منڈی طور پر پیش کر رہی ہے، وہاں مسئلہ صرف راستے کا نہیں بلکہ طلب کا ہے۔ قازقستان، ازبکستان اور روس خود آلو کے بڑے پیداواری ممالک ہیں۔ ان کی درآمدات موسمی اور محدود ہوتی ہیں اور مجموعی طور پر چند ہزار ٹن سے آگے نہیں جاتیں۔
اگر ان تمام منڈیوں کو یکجا کر کے دیکھا جائے اور یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ سب اپنی پوری درآمدی طلب صرف پاکستان سے پوری کریں تو بھی پاکستان بمشکل سات سے آٹھ لاکھ ٹن آلو برآمد کر پائے گا۔ یہی وہ عدد ہے جس کے آس پاس پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے گھوم رہا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ موجودہ اضافی پیداوار کا بڑا حصہ برآمدات کے ذریعے نکالنا ممکن ہی نہیں جب تک مزید بین الاقوامی منڈیاں نہ ڈھونڈ لی جائیں۔
کیا بھارت کی برآمدی منڈیوں تک رسائی ممکن ہے؟
یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اس بحران میں اکیلا نہیں۔ بھارت بھی اس وقت آلو کی شدید فراوانی اور قیمتوں کے کریش سے گزر رہا ہے۔ بھارتی پنجاب، ہریانہ اور آسام میں صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ بھارت کے پاس نیپال اور بنگلہ دیش جیسی قدرتی اور جغرافیائی طور پر قریبی منڈیاں موجود ہیں۔ نیپال سالانہ اڑھائی سے تین لاکھ ٹن آلو درآمد کرتا ہے اور یہ تقریباً مکمل طور پر بھارت سے آتا ہے۔ بنگلہ دیش اگرچہ خود بڑا پیداواری ملک ہے مگر خراب سیزن میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ ٹن تک آلو درآمد کرتا ہے اور یہاں بھی بھارت ہی اولین سپلائر ہے۔ یہ تصور کہ بھارت اپنی ان منڈیوں سے دستبردار ہو جائے گا تاکہ پاکستان وہاں داخل ہو سکے، سیاسی اور تجارتی دونوں حوالوں سے غیر حقیقی ہے۔ حتیٰ کہ اگر محض دلیل کے طور پر یہ فرض کر لیا جائے کہ پاکستان کسی طرح نیپال اور بنگلہ دیش کی پوری درآمدی طلب بھی حاصل کر لے تو بھی اس سے بمشکل چار سے پانچ لاکھ ٹن اضافی گنجائش پیدا ہو گی، جو پاکستان کے مجموعی فاضل آلو کے مقابلے میں پھر بھی بہت کم ہے۔
کیا برآمدات پر سبسڈی ایک ممکنہ حل ہو سکتا ہے؟
اگر حکومت برآمدات کو سبسڈی دے دے، فریٹ کم کر دے، یا تجارتی رکاوٹیں ہٹا دے تو برآمدات کو وقتی سہارا تو مل سکتا ہے مگر اس سے منڈی کا بنیادی توازن بحال ہونے کا امکان کم ہے۔ سبسڈی کے باوجود بھی وہی سات آٹھ لاکھ ٹن آلو ہی برآمد ہو سکے گا، زیادہ سے زیادہ اس میں ایک دو لاکھ ٹن کا اضافہ ہو سکتا ہے وہ بھی صرف اس صورت میں اگر افغانستان اپنا ساڑھے تین لاکھ ٹن کا حصہ پاکستان سے ہر حال میں حاصل کرے۔ اگرافغانستان کو نکال کرجارحانہ برآمدات بھی کر لی جائیں تب بھی ساڑھے سات لاکھ ٹن سے زائد کی نفسیاتی حد عبور نہیں ہو سکتی۔ اتنی برآمدات سے قیمت کو وقتی سہارا مل سکتا ہے، مگر قیمت کے کریش کو روکا نہیں جا سکتا۔
اصل مسئلہ ہے کیا؟ زائد پیداوار یا کم مانگ؟
اصل مسئلہ برآمدات نہیں بلکہ اندرونی طلب کا جمود اور پیداوار میں بے تحاشہ اضافہ ہے۔ پاکستان میں آلو زیادہ اس لیے نہیں ہو رہا کہ قوم اسے زیادہ کھا رہی ہے، بلکہ اس لیے ہو رہا ہے کہ پیداوار کا پورا ایک صنعتی ایکو سسٹم بن چکا ہے جس کا رشتہ خوراک کی حقیقی طلب سے ٹوٹ چکا ہے۔ جب تک آلو کو گندم کے متبادل یا معاون خوراک کے طور پر قومی غذائی نظام کا حصہ نہیں بنایا جاتا، جب تک فوڈ انڈسٹری، گھریلو پکوان اور غذائی ثقافت میں آلو کی کھپت بڑھانے پر سنجیدہ کام نہیں ہوتا، تب تک یہ بحران ہر چند سال بعد واپس آتا رہے گا۔ یہ سب تبدیلیاں مگر راتوں رات نہیں ہو سکتیں۔ موجودہ سیزن کی حقیقت یہ ہے کہ پیداوار آ چکی ہے، عالمی اور علاقائی منڈیاں محدود ہیں،بھارت میں بھی پاکستان والی صورتحال ہے اور حکومت کے پاس فوری طور پر کوئی ایسا پالیسی آلہ نہیں جس سے قیمت کو مستقل سہارا دیا جا سکے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس سیزن میں کسان قیمت اور قسمت کے رحم و کرم پر ہے۔ افغان بارڈر کھل بھی جائے تو بحران مکمل طور پر نہیں ٹلے گا، اور اگر نہ کھلا تو اس کی شدت اور زیادہ ہو گی۔ یہ آلو کا نہیں، بلکہ پیداوار، پالیسی اور طلب کے درمیان ٹوٹے ہوئے رشتے کا بحران ہے۔