چیک جمہوریہ میں ’’ٹرمپ نواز‘‘ رہنما آندری بابِس کی واپسی

چیک جمہوریہ میں سابق وزیرِاعظم آندری بابِس نے پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کر کے ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکز میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ان کی جماعت ANO پارٹی نے بڑے پیمانے پر ووٹ حاصل کیے، جب کہ ان کے مخالفین — خاص طور پر لبرل اور اعتدال پسند جماعتیں — واضح اکثریت حاصل نہ کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بابِس کی کامیابی صرف ایک قومی انتخابی واقعہ نہیں، بلکہ یورپ میں دائیں بازو کے ابھرتے ہوئے رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ ان کی انتخابی مہم میں قوم پرستی، امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف، یورپی یونین کے فیصلوں پر خودمختاری کا مطالبہ، اور “عام عوام کے خلاف اشرافیہ کی سیاست” جیسے نعرے نمایاں تھے — یہ تمام عناصر کسی حد تک ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانیے سے مماثلت رکھتے ہیں۔

آندری بابِس، جو ایک کامیاب بزنس ٹائیکون بھی ہیں، نے اپنی سیاسی مہم میں یہ مؤقف اپنایا کہ “روایتی سیاستدانوں نے عوام سے وعدے تو کیے مگر زندگی بہتر نہیں بنائی”۔ ان کے اس نعرے نے بالخصوص نچلے متوسط طبقے، دیہی علاقوں اور صنعتی مزدور طبقے میں پذیرائی حاصل کی۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہ وہ طبقہ ہے جو معاشی دباؤ، مہنگائی اور عالمی تجارتی دباؤ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے — اور جو اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو زیادہ سنجیدگی سے سنتا ہے.

بابِس کی جیت کا اثر صرف پراگ تک محدود نہیں رہے گا۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک، خصوصاً ہنگری، سلوواکیا اور پولینڈ، پہلے ہی دائیں بازو کے زیرِ اثر حکومتوں کے تجربے سے گزر رہے ہیں۔ اب چیک جمہوریہ میں ایک مضبوط، یورپی پالیسیوں پر شکوک رکھنے والی حکومت کے قیام کا امکان بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق برسلز کے لیے یہ ایک اور “سردرد” ہوگا کیونکہ یورپی اتحاد پہلے ہی یوکرین جنگ، پناہ گزینوں کے بحران اور توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مصروف ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ آندری بابِس کو اقتدار ملا ہو، مگر ان کی سیاسی واپسی کے ساتھ پرانی کرپشن اسکینڈلز کی بازگشت بھی ایک بار پھر سنائی دے رہی ہے۔
ماضی میں ان پر یورپی فنڈز کے غلط استعمال اور اپنے کاروباری مفادات کو سیاسی طاقت سے جوڑنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جنہیں وہ ہمیشہ “سیاسی سازش” قرار دیتے رہے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے انتخابی جلسوں میں واضح طور پر کہا کہ “کرپشن کا الزام لگانے والے دراصل عوامی تبدیلی سے خوفزدہ ہیں۔”

بین الاقوامی میڈیا نے بابِس کی جیت کو “ٹرمپ ازم کا یورپی ایڈیشن” قرار دیا ہے۔ ان کا اندازِ سیاست — میڈیا پر حملے، روایتی اشرافیہ کو ہدف بنانا، اور عوامی جذبات سے کھیلنا — بلاشبہ ٹرمپ اور بولسونارو جیسے رہنماؤں سے مماثلت رکھتا ہے۔
ان کے حامیوں کے نزدیک وہ “قوم پرست ہیرو” ہیں جو یورپ کے دباؤ سے ملک کو آزاد کرانا چاہتے ہیں، جب کہ مخالفین کے نزدیک وہ “جمہوریت کے اداروں کے لیے خطرہ” ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آندری بابِس اپنی انتخابی عوامی مقبولیت کو پالیسی سطح پر کس حد تک تبدیل کر پاتے ہیں۔ اگر وہ یورپی یونین کے ساتھ تصادم کی راہ اپناتے ہیں، تو چیک جمہوریہ کو اقتصادی اور سفارتی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر وہ متوازن رویہ اپناتے ہیں، تو یہ ان کے لیے ایک موقع ہوگا کہ وہ یورپی دائیں بازو کے “پاپولسٹ بلاک” کے قائد کے طور پر ابھریں۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x