اسلام آباد، 30 اکتوبر 2025: متنازعہ ٹویٹس کیس میں اسلام آباد کی عدالت نے وکیل اور سماجی رہنما ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد کردی۔ دونوں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔ عدالت نے استغاثہ کے تمام گواہان کو 5 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے گرفتار ملزم ہادی علی چٹھہ کو ضمانتی مچلکے دوبارہ جمع کرانے کا حکم دیا، جس پر جج اور ملزمان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
ہادی چٹھہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ مچلکے جمع نہیں کرائیں گے اور عدالت غیرقانونی اقدام کر رہی ہے۔ اس موقع پر ایمان مزاری نے کہا کہ اگر عدالت ہمیں گرفتار کرانا چاہتی ہے تو میری ضمانت بھی منسوخ کر دی جائے۔
جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “عزت دینے سے ہی عزت ملتی ہے۔”
وکیلِ صفائی قیصر امام نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان سینئر وکلا ہیں اور انہیں اسلام آباد و راولپنڈی کی ہائیکورٹس میں پیش ہونا پڑتا ہے، اس لیے عدالت ان کی مصروفیات کو مدنظر رکھے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ اسی وجہ سے ملزمان کی درخواست پر تین بار سماعت ملتوی کی جا چکی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے تمام گواہان کو طلب کر لیا۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے درج کر رکھا ہے۔