کراچی، اسلام آباد اور بڑھتا ہوا ٹریفک کا مسئلہ

اتفاق سے حال ہی میں کراچی جانا ہوا۔ یہ شہر روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے، مگر وہاں ایک چیز خاص طور پر نظر آئی کہ زندگی بے حد مصروف ہے۔ ہر شخص اپنے کاموں میں اس قدر مگن ہے کہ کسی کو دوسرے کی زندگیوں میں جھانکنے کی فرصت ہی نہیں۔

کراچی میں شاہراہ فیصل پر روزانہ ٹریفک کا ایسا سمندر دیکھنے کو ملا کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پوری سڑک گاڑیوں سے بھر کر رک گئی ہو۔ ہوٹل جہاں میں ٹھہرا تھا، اس کا راستہ بھی شاہراہ فیصل سے گزرتا تھا، لہٰذا ہر روز اس رش کا سامنا ہوتا۔

اسی طرح اسلام آباد ایکسپریس وے کی صورتحال بھی اب کچھ مختلف نہیں رہی۔ ٹرائی سیریز کے دوران جب غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آئی تھیں اور راولپنڈی میں میچز ہو رہے تھے تو اُس وقت ٹریفک جام کو میچز کی وجہ سمجھا گیا۔ مگر سیریز ختم ہونے کے بعد بھی فیض آباد کے قریب جاری تعمیراتی سرگرمیوں نے ایکسپریس وے کو شاہراہ فیصل کی یاد تازہ کر دی ہے۔

ٹریفک میں طویل پھنسا رہنا ایک اور مسئلہ بھی پیدا کرتا ہے۔ موجودہ مہنگائی میں صرف ایک نوکری پر گزارا ممکن نہیں، لوگوں کو شام کی اضافی نوکری بھی کرنی پڑتی ہے۔ لیکن دفتر سے گھر پہنچنے تک کی تھکن اس قدر حاوی ہوتی ہے کہ کھانا کھا کر دوبارہ کسی کام پر بیٹھنا ایک امتحان محسوس ہوتا ہے۔

اس صورتحال سے نکلنے کے لیے سوال یہ ہے کہ ایکسپریس وے پر کیا اقدامات کیے جائیں؟ میرے خیال میں متعلقہ حکام، ٹریفک پولیس اور منصوبہ ساز اداروں کو فوری طور پر مؤثر حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ شہریوں سے بات کرنے پر دو تجاویز سامنے آئیں:

سروس روڈ کی مؤثر بحالی اور توسیع:
ایک طرف سروس روڈ تو موجود ہے مگر اس کا استعمال مطلوبہ انداز میں نہیں ہو رہا۔ اگر سروس روڈ کو بہتر بنا کر فعال کیا جائے تو ٹریفک کی ایک بڑی مقدار وہاں منتقل ہو سکتی ہے۔

لوکل ٹرانسپورٹ کے چھوٹے روٹس کا اضافہ:
میں خود ایک ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں سے مین روڈ تک ڈھائی کلومیٹر تک کوئی لوکل ٹرانسپورٹ نہیں ملتی، جس کی وجہ سے مجبوراً اپنی گاڑی استعمال کرنا پڑتی ہے۔ اگر چھوٹے روٹس پر سرکاری سطح پر لوکل ٹرانسپورٹ چلائی جائے تو بہت سے لوگ نجی گاڑی استعمال کرنے سے بچ جائیں گے اور ٹریفک میں کمی آئے گی۔

اگر دن کے دیگر اوقات میں بھی ٹریفک ویسا ہی ہو جیسا دفتری اوقات میں ہوتا ہے، تو یہ الارمنگ صورتحال ہے۔ دفتری اوقات میں ٹریفک کی سست روی سمجھ آتی ہے، مگر باقی اوقات میں تو یہ نارمل ہونا چاہیے۔ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اسلام آباد واقعی کراچی کی طرح ٹریفک جام کا شکار ہو سکتا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x