جب ایک کارکن وزیراعلیٰ بن گیا

خیبرپختونخوا کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور مثبت موڑ آیا ہے۔ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان، جو کبھی پاکستان تحریکِ انصاف کے طلبہ ونگ آئی ایس ایف کا ایک عام کارکن تھا، آج صوبے کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہو گیا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ جمہوریت کے اس خواب کی تعبیر ہے جس میں عام نوجوان بھی اقتدار کی راہ میں قدم رکھ سکتا ہے۔

پاکستان کی سیاست طویل عرصے سے چند خاندانوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ “سیاستدان” ایک خاص طبقے کا لقب بن چکا تھا — وہی چہرے، وہی نام، وہی اقتدار کے کھیل۔ موروثی سیاست نے عام شہری کے لیے قیادت کے دروازے بند کر رکھے تھے۔ ایسے میں ایک کارکن کا وزیراعلیٰ بن جانا محض تبدیلی نہیں بلکہ ایک علامت ہے — اس بات کی کہ جمہوریت میں اب وہی آگے بڑھے گا جس کے پاس عزم، جدوجہد اور عوامی نمائندگی کا حقیقی جذبہ ہے۔

یہ فیصلہ یقینی طور پر ان ہزاروں نوجوانوں کے لیے حوصلے کا پیغام ہے جو سیاست کو “صرف بڑوں کا کھیل” سمجھ کر اس سے دور رہتے تھے۔ ایک عام کارکن کا وزیراعلیٰ بن جانا اس سوچ کو بدلنے کی بنیاد رکھتا ہے کہ قیادت کے لیے خاندانی نام نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور مسلسل محنت درکار ہے۔

یہ لمحہ ان تمام جماعتوں کے لیے بھی آئینہ ہے جو دہائیوں سے “جمہوریت” کے نام پر اقتدار کو محدود دائرے میں رکھے ہوئے ہیں۔ کیا وہ بھی اپنے کارکنوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیں گی؟ کیا وہ بھی مانیں گی کہ اصل طاقت عوام اور اُن کے نمائندہ نوجوانوں میں ہے، نہ کہ سیاسی وراثت میں؟

جمہوریت کی اصل روح اسی میں ہے کہ عام شہری بھی نظام کا حصہ بنے، اور اقتدار صرف چند ہاتھوں تک محدود نہ رہے۔ قبائلی علاقے کے ایک کارکن کا وزیراعلیٰ بن جانا نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے امید کا استعارہ ہے۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا، تو شاید ایک دن یہ نظام واقعی عوام کا، عوام کے لیے، اور عوام کے ذریعے چلنے والا نظام بن جائے۔

1
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x