خیبرپختونخوا کی سیاست ایک بار پھر ہلچل میں ہے۔ وزیراعلیٰ نے استعفیٰ دے دیا، اور اب ہر طرف سوالوں کی گونج ہے۔ مگر اس بار سیاست کے شوقین ایک نیا پہلو ڈھونڈ رہے ہیں — ایسا کیا ہوا کہ “ع” والے نام سے شروع ہونے والے شخص کا انتخاب نہیں کیا گیا؟
کیا واقعی “پیرنی صاحبہ” کا اثر کپتان سے ہٹتا جا رہا ہے؟ کیونکہ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو پی ٹی آئی کے جتنے بھی وزیراعلیٰ آئے، سب کے سب کسی نہ کسی “ع” سے شروع ہوتے تھے — علی، عاطف، یا پھر ع… کوئی نہ کوئی “ع” تو ضرور ہوتا تھا۔ اب کی بار یہ روایت ٹوٹی تو سوشل میڈیا پر چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ شاید اب قسمت کے حرف بھی ناراض ہو گئے ہیں!
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اب صوبائی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔ کوئی کہہ رہا ہے یہ سب پہلے سے طے تھا، کوئی بولتا ہے کہ نہیں جی، اچانک فیصلہ ہوا۔ عوام حسبِ روایت ٹی وی چینلز بدل بدل کر جاننے کی کوشش میں ہیں کہ اب “اگلا وزیراعلیٰ” کون ہوگا۔
چلیں ذرا آسان زبان میں سمجھتے ہیں کہ استعفیٰ کے بعد ہوتا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بڑے اعتماد سے اپنا استعفیٰ گورنر کے نام لکھ کر بھیج دیتے ہیں، جیسے کوئی فائل اوپر بھجوا دی ہو اور اب دیکھنا ہے کہ اوپر سے “ہاں” آتی ہے یا “خاموشی”۔ اب گیند گورنر کے کورٹ میں ہے۔ گورنر کے پاس دو آپشن ہیں — یا تو وہ استعفیٰ فوراً قبول کر لیں، یا پھر سیاست کا پسندیدہ کھیل کھیلیں: خاموش تماشائی بن جائیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے سابق صدر صاحب بلز پر دستخط کے لیے سوچ بچار میں ہفتے گزار دیتے تھے۔
قانون کہتا ہے کہ اگر گورنر 48 گھنٹے تک استعفیٰ قبول نہیں کرتے تو پھر سمجھ لیجیے کہ نظام خود ہی فیصلہ کر لیتا ہے — استعفیٰ ازخود منظور۔ یعنی وزیراعلیٰ اب سابق وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، چاہے گورنر صاحب اس دوران صرف چائے کی چسکیاں ہی لے رہے ہوں۔
اب آتے ہیں کہ نیا وزیرِاعلیٰ کیسے آئے گا؟
صوبائی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت یا اتحادی گروپ اپنا امیدوار سامنے لائے گا۔ اسپیکر اسمبلی اجلاس بلائے گا، اور وہاں ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ ہوگا۔
صوبائی سیاست کے اس نئے موڑ پر اب سب کی نظریں ایک بار پھر پشاور پر مرکوز ہیں۔ سیاسی جماعتیں مشاورت میں مصروف ہیں اور مختلف ناموں پر غور جاری ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ نیا وزیرِاعلیٰ جلد سامنے آ جائے گا، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والی قیادت صوبے کے لیے کیا نیا لاتی ہے — استحکام یا ایک اور سیاسی آزمائش۔