پنجاب میں کھیت مزدور عورتوں کے حقوق کے تحفظ پر قانون سازی کی ضرورت

پنجاب کی زرعی معیشت کے بارے میں ایک بنیادی حقیقت ہے جس سے بحث شروع ہونی چاہیے، نہ کہ اس سے بچنے کی کوشش۔ یہ معیشت ایک ایسی محنت پر کھڑی ہے جسے خود نظام تسلیم نہیں کرتا۔ کھیت مزدور مرد اور عورتیں اس نظام کا لازمی حصہ  ہیں، مگر قانون، پالیسی اور انتظامی ڈھانچے میں اس کی کوئی واضح حیثیت نہیں۔ کھیت مزدوروں میں بھی عورتیں سب سے زیادہ پسماندہ  ہیں جن کی محنت کو تسلیم کیا جاتا ہے  اور نہ ہی انہیں مناسب اجرت ملتی ہے۔

اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق پنجاب میں کم از کم 85 لاکھ خواتین زراعت میں غیر رسمی طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہ صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی ہے۔ مگر مسئلہ یہ نہیں کہ یہ خواتین گنی نہیں جاتیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں گن کر بھی مزدور نہیں مانا جاتا۔

جب کسی کو مزدور نہیں مانا جاتا تو اس کے لیے کوئی قانونی دائرہ نہیں بنتا۔ نہ اجرت کا حق، نہ کام کے اوقات، نہ تحفظ، نہ شکایت کا راستہ۔ اور یہ سب اس لیے نہیں کہ ان کی محنت کم ہے، بلکہ اس لیے کہ ہم نے طے کر رکھا ہے کہ کھیت کام کی جگہ نہیں ہے، اور گھر بھی نہیں۔

یہی وہ نکتہ  ہے جہاں عام بحث حقیقت سے کٹ جاتی ہے۔ اگر کھیت کو باقاعدہ ورک پلیس مان لیا جائے تو پھر اس پر وہی قواعد لاگو ہوں گے جو صنعت پر ہوتے ہیں۔ یہ نہ عملی ہے اور نہ قابلِ برداشت۔ پنجاب کا کسان، خاص طور پر چھوٹا کسان، پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ شہری متوسط طبقہ بھی اسی طرح محدود ہے۔ مکمل رسمی نظام مسلط کرنے کا مطلب ہوگا کہ یا تو یہ اخراجات منتقل ہوں گے، یا پھر محنت کی مانگ ہی کم ہو جائے گی اور نتیجہ کہ محنت کش غریبوں سے نام کا ہی سہی، یہ روزگار بھی چھوٹ جائے گا۔

اسی لیے موجودہ بندوبست ایک طرح کا غیر اعلانیہ سمجھوتہ ہے۔ غیر رسمی محنت، خاص طور پر خواتین کی محنت، اس نظام کو سستا اور قابلِ عمل رکھتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بندوبست درست ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ بندوبست موجود ہے — اور اس کے اندر رہتے ہوئے اصلاح کی بات کرنی ہوگی۔یہیں سے بحث کو آگے بڑھانا ہوگا۔

سوال یہ نہیں کہ کاشتکاری کو کارپوریٹ فارمنگ  میں تبدیل کیا جانا چاہیے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کھیتی کو کارپوریٹائز کیے کیے بغیر  کھیت مزدوروں خصوصا کھیت مزدور عورتوں کے حقوق کیسے محفوظ ہو سکتے ہیں؟

سندھ نے اسی سوال کا ایک عملی جواب دینے کی کوشش کی۔ 2019  کے زرعی خواتین کارکنان کے قانون ریعے اس نے کھیت کو فیکٹری نہیں بنایا، نہ ہی کسان کو اس طرح کا آجر مانا جیسا صنعت میں ہوتا ہے۔ اس نے ایک محدود مگر اہم قدم اٹھایا: اس نے عورت کو بطور زرعی مزدور تسلیم کیا اور اس تسلیم کے ساتھ کچھ بنیادی حقوق اور ادارہ جاتی ڈھانچے متعارف کرائے۔ اگرچہ سندھ میں عملدرآمد کی صورتحال بہت اچھی نہیں ہے۔ اس قانون کو رولز بھی ایک مہینہ پہلے نصیب ہوئے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ پروگریسو قانون سازی کی عمدہ مثال ہے۔

یہ ضرور ہے کہ پنجاب کو سندھ کی پیروی کرنی چاہیے مگر پنجاب کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہوگا۔پنجاب کا مسئلہ زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے۔ یہاں موسمی مزدوری کا حجم زیادہ ہے، پیشگی  کا نظام زیادہ گہرا ہے، اور خواتین کی شمولیت زیادہ وسیع ہے۔ اس لیے پنجاب کو ایک ایسا فریم ورک درکار ہے جو سندھ کے قانون سے زیادہ گہرا اور پائیدار ہو گا۔

یہ فریم ورک کہاں سے شروع ہوگا؟سب سے پہلے، شناخت سے۔یہ تسلیم کرنا کہ زرعی کام کرنے والی عورت، چاہے وہ اپنے کھیت میں ہو، کسی اور کے لیے کام کر رہی ہو، یا موسمی مزدور ہو — وہ مزدور ہے۔ یہ ایک اصولی قدم ہے، مگر اس کے بغیر باقی سب اقدامات غیر متعلق رہیں گے۔ جب تک شناخت نہیں ہوگی، نہ ڈیٹا درست ہوگا، نہ پالیسی، نہ رسائی۔

اس کے بعد دوسرا قدم آتا ہے خواتین کھیت مزدوروں کی سادہ اور قابلِ عمل رجسٹریشن۔یہ رجسٹریشن کسی پیچیدہ لیبر انسپکشن سسٹم کا متبادل نہیں، بلکہ ایک بنیادی انتظامی آلہ ہے۔ یونین کونسل کی سطح پر ایک رجسٹر ہو سکتا ہے، جس میں خواتین زرعی مزدوروں کا اندراج ہو۔ اس کے ساتھ ایک شناختی کارڈ یا ریکارڈ، جو انہیں ریاستی خدمات سے جوڑ سکے۔ اس میں نہ کسی بڑے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے، نہ کسی سخت نفاذ کی۔ مگر اس کے بغیر کوئی نظام کھڑا نہیں ہو سکتا۔

تیسرا اور سب سے اہم پہلو ہے: ریاست کا کردار۔یہ فرض کرنا کہ آجر—یعنی کسان—تمام ذمہ داری اٹھائے گا، حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ اس لیے اگر سوشل سیکیورٹی، صحت، یا فلاحی سہولیات دینی ہیں تو ان میں ریاست کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسان کو مکمل طور پر الگ کر دیا جائے، بلکہ یہ کہ بوجھ کی تقسیم حقیقت کے مطابق ہو۔مثال کے طور پر، رجسٹرڈ خواتین مزدوروں کو موجودہ سوشل پروٹیکشن پروگرامز، صحت کی سہولیات، یا سبسڈی اسکیمز سے براہ راست جوڑا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے نئے ادارے بنانے کی ضرورت نہیں، بلکہ موجودہ نظام کو کھولنے کی ضرورت ہے۔

چوتھا پہلو ہے: تنازعات کے حل کا مقامی نظام۔زرعی مزدوری کے زیادہ تر مسائل—اجرت، ادائیگی میں تاخیر، کام کے حالات—عدالتوں کے ذریعے حل نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے یونین کونسل یا تحصیل کی سطح پر ایسے فورمز درکار ہیں جہاں مزدور، کسان اور انتظامیہ مل کر مسائل حل کر سکیں۔ یہ فورمز رسمی عدالتوں کا متبادل نہیں، بلکہ ایک عملی راستہ ہیں جہاں فوری اور قابلِ عمل فیصلے ممکن ہوں۔پانچواں، اور شاید سب سے مشکل پہلو، پیشگی کے کا نظام  کا بتدریج خاتمہ ہے۔پیشگی کا نظام جدید غلامی کی سب سے کریہہ شکل ہے جس میں پورا خاندان پیشگی لیے گئے قرض چکانے  میں زمیندار کی بیگار کاٹتا ہے۔ کھیت مزدوری میں بھی اس نظام کو ویسے ہی ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے جیسے بھٹہ خشت کے مزدوروں کے لیے ہوتی ہے۔  پیشگی کے استحصالی نظام کو بھی مقامی ثالثی کی سطح پر ہی ضرب لگائی جا سکتی ہے۔

یہ تمام اقدامات کسی انقلابی تبدیلی کا دعویٰ نہیں کرتے۔ یہ نہ معیشت کو یکسر بدلتے ہیں، نہ موجودہ ڈھانچے کو توڑتے ہیں۔ مگر یہ ایک بنیادی خلا کو پُر کرتے ہیں: وہ خلا جہاں محنت موجود ہے مگر نظام میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔

اصل بات یہی ہے۔پنجاب کی معیشت اس محنت کے بغیر چل نہیں سکتی۔ مگر اس محنت کو ماننے کے بغیر چل رہی ہے۔ یہ تضاد زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا، اور نہ ہی چلنا چاہیے۔اب انتخاب یہ ہے کہ یا تو ہم اس تضاد کو اسی طرح برقرار رکھیں، یا ایک ایسا راستہ اختیار کریں جو مکمل نہ سہی، مگر کم از کم اس ناانصافی کو کم کرے۔یہ راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ ہم صدیوں سے استحصال کاتتی کھیت مزدور عورت کو آزادی اور محنت کے حاصل کے خواب دیکھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔  پنجاب اسمبلی سے التجا کیجیے کہ ایک قانونی فریم ورک جلد ازجلد متعارف کروائے جو کھیت مزدور عورتوں کے حقوق کے حصول کو ممکن بنائے۔

میرے بھی ہیں کچھ خواب

 میرے بھی ہیں کچھ خواب

وہ خواب کہ آزادی کامل کے نئے  خواب

سعی جگر دوز کے حاصل کے نئے خواب

3
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x