ویب ڈیسک | کرک انفو
کولمبو میں جاری ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیل اس وقت کچھ دیر کے لیے رک گیا جب پاکستانی اوپنر منیبہ علی کے رن آؤٹ کے فیصلے پر ابہام پیدا ہوا۔
کرکٹ ویب سائٹ “کرک انفو” کے مطابق، پاکستان ٹیم نے باؤنڈری لائن کے قریب کھڑے امپائرز سے اس غیر معمولی فیصلے پر وضاحت طلب کی، جب کہ منیبہ علی آؤٹ قرار دیے جانے کے بعد بھی باؤنڈری کے قریب ہی کھڑی رہیں۔
🔹 غیر معمولی واقعہ
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کی اننگز کے چوتھے اوور میں پیش آیا۔
ابتدائی طور پر منیبہ علی نے رن لینے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی، بلکہ وہ کریز سے کچھ آگے آکر بیٹنگ پوزیشن میں کھڑی تھیں — امکان ہے کہ وہ گیند کی سوئنگ کو کم کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہی تھیں۔
اسی دوران گیند وکٹ کیپر کے ہاتھ میں آئی، جس کے بعد بھارتی ٹیم نے اپیل کی اور امپائر نے تیسرے امپائر کی مدد سے انہیں رن آؤٹ قرار دیا۔
🔹 پاکستان ٹیم کا ردعمل
فیصلے کے فوراً بعد پاکستانی کپتان اور کھلاڑیوں نے امپائرز سے وضاحت طلب کی کہ کیا منیبہ علی واقعی رن لینے کی نیت میں تھیں یا نہیں، کیونکہ اگر بیٹر نے رن لینے کی کوشش نہ کی ہو تو اسے رن آؤٹ قرار دینا متنازع سمجھا جاتا ہے۔
میچ چند منٹ کے لیے روک دیا گیا تاکہ امپائرز قانون کی تشریح واضح کر سکیں۔ بعد ازاں کھیل دوبارہ شروع کیا گیا۔
🔹 کرکٹ قوانین کے مطابق
ماہرین کے مطابق، اگر کوئی بیٹر رن لینے کی نیت ظاہر کیے بغیر کریز سے باہر کھڑا ہو اور گیند کھیلنے کے بعد اسٹمپس ٹوٹ جائیں، تو یہ معاملہ قانون 38 (Run Out) کے تحت آتا ہے، تاہم نیت کا تعین امپائر کے فیصلے پر منحصر ہوتا ہے۔
🔹 تجزیہ
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے، جہاں شائقین کرکٹ نے امپائر کے فیصلے کو متنازع اور الجھا ہوا قرار دیا ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین کی تشریح میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات سے بچا جا سکے۔