قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیمی بل کو اضافی ترامیم کے ساتھ دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔ ترمیم کے حق میں 234 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ صرف 4 اراکین نے مخالفت کی۔
بل سینیٹ سے منظور شدہ شکل میں اضافی ترامیم کے ساتھ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جہاں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے چھ نئی ترامیم پیش کیں۔ ایوان نے مجموعی طور پر 59 ترامیم کی شق وار منظوری دی۔ اب بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا تاکہ وہاں ان اضافی ترامیم کی توثیق کی جا سکے۔
منظوری سے قبل وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی جس میں نوید قمر، شیری رحمان، مرتضیٰ وہاب اور اٹارنی جنرل بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران ترمیم سے متعلق تجاویز پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
میڈیا سے گفتگو میں وزیرِ قانون نے کہا کہ 27ویں ترمیم پر مثبت تجاویز زیرِ غور ہیں، اگر کسی پر ابہام ہے تو اس پر ایوان میں کھل کر بحث کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت آئینی ترامیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت جلد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے بھی اقدامات کرنا چاہتی ہے۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری اجلاس میں آئینی ترمیم کی منظوری کو ملکی سیاسی عمل میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔