روسی ایندھن کی برآمد پر پابندی، تیل کی قیمتوں میں جون کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ

سنگاپور — عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو ہلکا اضافہ ہوا تاہم رواں ہفتے مجموعی طور پر جون کے بعد سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ روس کی جانب سے ایندھن کی برآمد پر پابندی اور یوکرین تنازعے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی سپلائی کو متاثر کرنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، برینٹ کروڈ کی قیمت 15 سینٹ یا 0.2 فیصد بڑھ کر 69.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ 23 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 65.21 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ دونوں انڈیکس اس ہفتے 4 فیصد سے زائد بڑھے، جو جون کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

یوکرین-روس کشیدگی کا اثر

ٹریڈرز کے مطابق یوکرینی ڈرون حملوں نے روسی آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ نیٹو کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ردعمل کی وارننگ نے مارکیٹ کو مزید بے چین کر دیا۔ اس صورتحال میں ماسکو نے سپلائی کم کرتے ہوئے ایندھن کی برآمد پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔

روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ڈیزل کی برآمد سال کے آخر تک جزوی طور پر بند رہے گی، جبکہ پٹرول کی برآمد پر پہلے سے موجود پابندی بھی برقرار رہے گی۔ اس کے باعث روس کے کچھ علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جبکہ خام تیل کی پیداوار میں کمی کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

امریکی معیشت اور کردستان کی سپلائی نے اضافے کو محدود کیا
ہفتے کے آغاز میں امریکی حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی نے مزید اضافہ روک دیا۔

امریکی محکمہ تجارت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں معیشت 3.8 فیصد سالانہ شرح سے بڑھی، جو پہلے کے اندازوں سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مثبت اعداد و شمار کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو مزید شرح سود میں کمی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر سکتا ہے۔

اسی دوران، کردستان ریجنل گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ 48 گھنٹوں میں خام تیل کی برآمد دوبارہ شروع کی جائے گی، جس سے مشرق وسطیٰ میں سپلائی کے خدشات کم ہوں گے۔

آئندہ منظرنامہ: جغرافیائی سیاست غالب

ماہرین کے مطابق اس ہفتے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کس حد تک جغرافیائی تنازعات سے متاثر ہو رہی ہے۔

مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائی کامور کے مطابق:

“یوکرینی حملے، نیٹو کی وارننگ اور روس کی برآمدی پابندیاں سب نے مل کر اس ہفتے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیلا ہے۔”

برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے جون کے بعد سب سے بڑے ہفتہ وار اضافے کے بعد، اب سرمایہ کار روس کی پیداوار میں کمی اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسی کے اقدامات پر نظر رکھیں گے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x