کیا پاک افغان تجارت کی بحالی آلو کا بحران ٹال سکتی ہے؟  

  •  آلو کے موجودہ بحران کی جڑیں تجارتی راہداری کی بندش سے زیادہ پیداوار کے اس ماڈل میں پیوست ہیں جو طلب سے کٹ چکا ہے

رشید چودھری

اسلام آباد، جنوری 2، 2026( واج فیچر):

کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ قصور،  اوکاڑہ، ساہیوال، سیالکوٹ  اور پاکپتن کے پنجابی کسان پاکستان کی خارجہ پالیسی کو گہری نظر سے دیکھیں گے؟ پاک بھارت تعلقات میں تو پنجاب کی دیہی آبادی کی دلچسپی قابل فہم ہے کہ ان اضلاع میں آبادی کا ایک حصہ مشرقی پنجاب کے مہاجروں اور آبادکاروں پر مشتمل ہے  مگر پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات پنجابی کسانوں کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بن جائیں گے، یہ بات قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے کسی استاد یا طالب علم کے گمان میں بھی شاید نہ آئی ہو۔

حقیقت مگر یہ ہے کہ ان اضلاع کے کسانوں اور عام لوگوں کے لیے پاک افغان تعلقات محض ایک خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں رہے بلکہ معاشی لحاظ سے ناگزیر اہمیت اختیار کر   چکے ہیں۔ سوشل میڈیا ہو، بیٹھک میڈیا، چائے کے ڈھابے ہوں یا کھیتوں میں کام کے دوران سموکنگ بریک، چھوٹے بڑے کاروباری، صنعتکار، انویسٹر اور کسان ایک دوسرے سے یہی سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں:

“اوئے، کوئی بارڈر دی خبر آئی؟”

مگر پاک افغان سرحد کی خبر ہے کہ آتی ہی نہیں، اور اگر آ بھی جائے تو محض وقتی ذہنی تسلی سے آگے نہیں بڑھتی۔ دسمبر میں ایک سے زائد مرتبہ یہ خبریں آئیں کہ طورخم اور چمن بارڈر کھل گئے ہیں۔ کسانوں کے دل خوشی سے بھر گئے، مگر یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی جب معلوم ہوا کہ پاکستان نے سرحد محض اقوام متحدہ کی انسانی امدادی ترسیل کے لیے عارضی طور پر کھولی تھی۔

پاک افغان تجارت بند ہونے سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے لوگوں یا ان صوبوں کے تاجروں کا متاثر ہونا فطری امر ہے، مگر پاک افغان سرحد ان پنجابی کسانوں کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے جنہوں نے آلو کی کاشت کر رکھی ہے اور جو ممکنہ خسارے سے بچنے کا واحد راستہ افغانستان اور افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا کو برآمدات میں دیکھتے ہیں۔

پاک افغان  سرحد  کی موجودہ  صورتحال !

9 اکتوبر کو افغانستان کی طرف سے دہشت گردانہ حملے اور اس سے پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کے تناظر میں پاک افغان بارڈر بدستور بند ہے ۔ چند ہفتے قبل  دوحہ میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ اگرچہ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں افغانستان کے ساتھ سعودی عرب میں سیکورٹی مذاکرات کا ایک اور دور ہوا ہے مگر اس کے نتائج بقول ان کے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ طرفین کے تاجران مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ٹریڈ روٹ کھول دیا جائے۔ ہزاروں کنٹینرز  اور ٹرکس بارڈر کے دونوں طرف راہدایاں کھلنے کے منتظر ہیں مگر پاکستانی حکومت اور افغان انتظامیہ کی جانب سے بارڈر کھلنے اور کھولنے کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

بارڈر کھلنا کیوں ضروری ہے؟

مختصرا کہا جائے تو بارڈر کھلنا اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں آلو کی پیداوار وافر ہے جو ملکی ضروریات  اور طلب سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر آلو برآمد نہ ہو تو اس فراوانی کے طفیل مارکیٹ کریش کر جاتی ہے۔ پچھلے سال مئی کے بعد آلو کے نرخ گرنا شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ کسان کو پچھلے سیزن میں بہت اچھا ریٹ ملا تھا جس کی ایک وجہ افغانستان اور افغانستان کے راستے آلو کی وسطی ایشیاء کی ریاستوں کو برآمد تھی جس نے ریٹ کو مستحکم رکھا۔ سیزن کے بعد توقعات کے برعکس ریٹ بہتر نہیں ہوا اور سٹوروں میں ذخیرہ کیے گئے آلو کو مناسب ریٹ نہیں ملا۔ پاکستان اورافغانستان کی حکومتوں نے جولائی میں  ایک معاہدہ بھی کیا جس کے تحت افغانستان نے  پاکستانی آلو کی درآمد پر ڈیوٹی آدھی سے بھی کم کر دی مگر اس کے باوجود  آلو افغانستان نہ پہنچ سکا کیونکہ ذخیرہ شدہ آلو پر لاگت بڑھ جاتی ہے اور افغانستان ترسیل پر بھی اخراجات بہت آتے ہیں ۔  خود افغانستان کے اندر اچھی فصل اور دیگر ملکوں سے برآمد کی وجہ سے افغان مارکیٹ میں ریٹ اتنا اچھا نہیں تھا کہ پاکستانی سٹوروں کا مال وہاں منافع بخش ریٹ پر بک سکے۔ پنجاب کے سٹور ریٹ بہتر ہونے کا انتظار کرتے رہ گئے اور جب سٹورز نے اکتوبر میں آلو مارکیٹ میں عملا پھینکنا شروع کیا تو مارکیٹ ایک طرح سے کریش کر گئی جس کا نقطہ عروج دسمبر میں سامنے آیا جب  پنجاب کی نئی فصل کی کچی پٹائی (قبل ازوقت برداشت )  کی پیداوار منڈیوں میں پہنچی جب منڈیاں سٹوروں کی باقیماندہ پیداوار اور ملک کے دیگر علاقوں کی پیداوار سے پہلے ہی اٹی پڑیں تھیں۔ سٹورز والی بہت سی پیداوار یا تو ضائع کرنا پڑی یا جانوروں کو بطور چارہ کھلائی گئی  کیونکہ ریٹ اتنا گر گیا تھا کہ ذخیرہ شدہ آلو کو منڈیوں تک ٹرانسپورٹ کرنے کا خرچا بھی نہیں نکل رہا تھا۔

اگر حالات نارمل ہوں تو کچی پٹائی کے وقت آلو کی صارف قیمت 60 سے 70 روپے ہونی چاہیے جو رواں سیزن میں پچاس روپے سے بھی نیچے ہے اور مزید گر رہی ہے ۔ کچی پٹائی کی فی کلو پیداوار پر 30 روپے سے زائد خرچ آتا ہے جبکہ اس سیزن میں کسان کو فی کلو قیمت دس سے پندرہ روپے تک مل رہی ہے۔پکی پٹائی جنوری کےاخیر سے شروع ہو گی جب مزید پیداوار پوری طاقت کے ساتھ مارکیٹ میں پہنچے گی۔ پکی پٹائی کے ہر ایک کلو آلو پر لاگت اکیس سے چوبیس روپے آتی ہے۔ پکی پٹائی یعنی سیزن کے عین دوران  آلو کی خوردہ قیمت 40 روپے سے اوپر رہے تو کسان کو لاگت وصول ہونے کے بعد کچھ منافع ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

پکی پٹائی کے دنوں میں آلو کے نرخ گر جاتے ہیں مگر اس مرتبہ مارکیٹ بری طرح کریش ہونے کا خطرہ ہے۔

متوقع نقصان کو سامنے دیکھ کر کئی کسان کھڑی فصل پر ہل پھیر رہے ہیں۔  پکی پٹائی کے آلو سٹور بھی ہوتے ہیں ۔سٹور کے آلو پر فی کلو لاگت بڑھ کر  40 روپے ہو جاتی ہے کیونکہ سٹوریج اور کھیت سے سٹور اور پھر سٹور سے منڈی تک مال پہنچانے کے اضافی اخراجات بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جولائی سے نومبر تک سٹور کا آلو چلتا ہے۔ ان مہینوں میں اگر خوردہ قیمت 80 روپے سے زائد ہو تو آلوکے بیوپاری منافع میں رہتے ہیں ۔ پچھلے سیزن میں کچی پٹائی اور پکی پٹائی کے تازہ آلو کو بہت اچھا ریٹ ملا تھا۔ اچھا ریٹ دیکھ کر انویسٹرز نے مہنگے داموں آلو خرید کر سٹور کر لیے تھے مگر سٹوروں کے آلو کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس سے خدشہ ہے کہ اس دفعہ انویسٹر ز بھی دلچسپی نہیں لیں گے اور ریٹ مستحکم نہیں ہو سکے گا۔

کسانوں کی اکثریت اپنے طور پر آلو سٹور کرنے کی متحمل نہیں ہوتی کیونکہ انہیں اپنی پیداوار بیچ کر اگلی فصل پر خرچا کرنا ہوتا ہے۔

 اندریں حالات کسان کی واحد امید افغانستان کے ساتھ تجارت کی بحالی تاکہ پیداوار وہاں جانا شروع ہو اور یہاں ریٹ مستحکم ہو۔ افغانستان ہر سال اوسطا ساڑھے تین لاکھ ٹن آلو پاکستان سے خریدتا ہے جو اگرچہ پاکستان کی ایک کروڑ ٹن کی کل پیداوار میں کوئی بڑی حیثیت نہیں رکھتے مگر برآمدات کی یہ کھیپ مقامی پیداوار میں رسد کو ریگولیٹ کرنے اور ریٹ کو کریش ہونے سے بچانے میں بڑا کردار ادا کرتی  ہے یا کم ازکم پچھلے برس تک کرتی رہی تھی۔

افغانستان کو کتنا آلو چاہیے؟

گزشتہ برس سیزن کے آغاز ہی میں افغانستان اور قازقستان کو پاکستانی آلو کی برآمدات شروع ہو گئی تھیں، جس کے نتیجے میں قیمتیں مستحکم رہیں۔  دستیاب اعدادوشمار کے مطابق مئی 2025 کے اختتام تک پاکستان نے تقریباً ساڑھے سات لاکھ ٹن آلو برآمد کیا، جس کا نصف سے کچھ کم افغانستان کو گیا۔

پنجابی کسانوں کے لیے یہ ایک سادہ معاشی اصول ہے: آلو برآمد ہوگا تو منافع ہوگا، اور چونکہ برآمد ہونے والے آلو کا بڑا حصہ افغانستان جاتا ہے، اس لیے افغانستان کے بغیر آلو کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔

کسانوں نے پچھلے کئی برسوں کے تجربے کی بنیاد پر یہ امید باندھ رکھی تھی کہ اگر افغانستان کی منڈی کھل گئی تو صورتحال سنبھل جائے گی، مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ آلو کی قیمتوں میں گراوٹ گزشتہ برس سیزن کے فوراً بعد، یعنی مئی سے شروع ہو گئی تھی، اور پورا سال قیمتیں کم رہیں۔ نئے سیزن کے آغاز تک صورتحال یہ ہو چکی تھی کہ کولڈ سٹورز سے آلو انتہائی کم قیمت پر، بعض جگہ مفت اور کہیں الٹا پیسے دے کر نکلوائے گئے۔ پنجاب میں اس وقت آلو سے بنے نشاستہ کی غذائیت جانوروں کے چارے میں ایک سستے غذائی متبادل کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ صورتحال محض پاک افغان سرحد کی بندش کا نتیجہ نہیں تھی۔ پاکستان اور افغانستان نے جولائی میں ایک خصوصی معاہدے کے تحت آلو پر ڈیوٹی ساٹھ فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کر دی تھی، اور سرحد یکم اگست سے 9 اکتوبر تک کھلی رہی، مگر اس کے باوجود برآمدات نہ ہو سکیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ افغانستان میں آلو کی قیمت اتنی کم تھی کہ پاکستانی پیداوار وہاں پہنچ کر منافع بخش نہیں رہتی تھی۔

افغانستان میں کولڈ سٹوریج کی سہولتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔افغان  تاجروں نے سیزن کے آغاز میں پاکستان سے آلو خرید کر ذخیرہ کیا، کولڈ سٹورز تعمیر کیے، اور ساتھ ہی مقامی پیداوار بھی خاصی رہی۔ افغانستان میں قابلِ اعتماد زرعی اعدادوشمار کی شدید کمی ہے، تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق 2023 میں آلو کی سالانہ پیداوار تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ  ٹن رہی، جبکہ 2025 میں مقامی فصل غیر معمولی طور پر بہتر رہی اور پیداوار دس  لاکھ ٹن کے قریب پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

افغانستان میں آلو کی مجموعی سالانہ طلب تقریباً تیرہ  لاکھ ٹن ہے، جس میں سے دس لاکھ ٹن کے قریب مقامی پیداوار سے پوری ہو جاتی ہے۔ گزشتہ سیزن میں صرف پاکستان سے تین لاکھ ٹن سے زائد آلو درآمد کیا گیا۔ کچھ مقدار ذخیرہ ہو گئی اور کچھ ایران سے بھی درآمد ہوئی، جس کے نتیجے میں افغان منڈی  بھی آلو کی فراوانی کا شکار ہو گئی۔

افغانستان میں بھی آلو کی فی کس کھپت 21 کلو گرام کے قریب ہی ہے۔

موجودہ سیزن میں بھی افغانستان کو تقریباً تین لاکھ ٹن آلو درآمد کرنا ہوں گے، تاہم ابھی تک وہاں کسی قلت کی نشاندہی نہیں ہو رہی۔ قیمتیں مستحکم ہیں تاہم افغان تاجران کی ترجیح یہی ہو گی کہ پاکستان میں سیزن کے عروج پر  یہاں سے مال خریدیں جسے وہ ذخیرہ کر کے یا براہ راست منڈیوں میں پہنچا کر بیچیں گے۔

پاکستانی آلو کا اصل بحران پیداوار میں مسلسل اضافہ ہے

پچھلی ڈھائی دہائیوں سے پاکستان میں آلو کی پیداوار اور زیرکاشت رقبہ مسلسل بڑھ رہے ہیں مگرملکی یا بین الاقوامی منڈی کی طلب اس حساب سے نہیں بڑھ رہی۔

پاکستان میں آلو کی کل پیداوارکا   98 فیصد صرف پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ ساہیوال ڈویژن کے تین اضلاع یعنی ساہیوال، اوکاڑا اور پاکپتن   اور لاہور ڈویژن کا ضلع قصور پنجاب کی کل پیداوار کا 75 فیصد اور کل ملکی پیداوار کا 73 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ ان اضلاع میں آلو خریف کی بڑی فصل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔کسی زمانے میں یہ  اضلاع کپاس کی پیداوار کے لیے جانے جاتے تھے مگر 2000 کی دہائی میں بی ٹی کاٹن کی ناکامی نے ان اضلاع کے کسانوں کو خریف کی متباد ل فصلوں کی طرف دھکیلا جن میں آلو ایک کامیاب مگر مہنگی فصل کے طور پر سامنے آئی۔ آلو کے کاشتکار دیہی مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی زمینوں یا ٹھیکے  پر لیے گئے رقبے پر آلو کاشت کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان، دیر، شانگلہ، سوات، کاغان اور تورغر سمیت پختونخوا کے بالائی علاقوں  اور مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پورکے نسبتا زیریں میدانوں  میں بھی آلو کاشت ہوتا ہے اور معیار کے لحاظ سے اسے پنجاب کے آلو پر برتری بھی  حاصل ہے لیکن کل ملکی پیداوار میں ان علاقوں کا حصہ انتہائی معمولی ہے تاہم آلو کی معیشت پر ان علاقوں کی  کم پیداوار کے اثرات بھی بہت زیادہ ہیں۔ ان علاقوں میں آلو اس سیزن میں کاشت ہوتا ہے جب پنجاب کا سیزن ختم ہو جاتا ہے اور پنجاب میں ذخیرہ شدہ آلو سے منڈی کی طلب پوری کی جا رہی ہوتی ہے۔ ان علاقوں سے آنے والا آلو کچھ دنوں یا ہفتوں تک منڈی میں سٹور والے آلو کا مقابلہ کرتا ہے اور سٹور کے آلو کی قیمت گر جاتی ہے۔ بالائی علاقوں میں فصل موسم گرما کے عروج اور خزاں کے شروع میں تیار ہوتی ہے جبکہ پنجاب کی تازہ پیداوار دسمبر سے فروری تک مارکیٹ پہنچتی ہے۔  

اگرچہ پنجاب میں اکتوبر میں کاشت ہونے والا آلو جنوری کے وسط میں تیار ہوتا ہے تاہم پنجابی کسان دسمبر کے شروع ہی سے کچھ کھیتوں سے آلو نکال کر مارکیٹ پہنچا دیتے ہیں۔ اسے کچی پٹائی کہتے ہیں جسے ہم ارلی ہارویسٹ یا قبل از وقت برداشت کہہ سکتے ہیں۔

کچی پٹائی میں پیداوار کم ہوتی ہے  مگر ان دنوں میں مارکیٹ میں ریٹ اچھا مل جاتا ہے۔ پکی پٹائی جنوری کے دوسرے پندرھواڑے سے شروع ہوتی ہے اور ملک کی منڈیوں اور سٹوروں میں ہر طرف آلو پہنچ جاتا ہے۔ پنجاب میں آلو کی کل پیداوار کا تقریبا پانچواں حصہ کولڈ سٹورز میں سٹور کر لیا جاتا ہے۔ پنجاب کے ان اضلاع میں سینکڑوں سٹورز کام کر رہے ہیں  جو آلو کو ذخیرہ کر کے اس کی رسد کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔  سٹورز  سے آلو کی رسد نومبر تک جاری رہتی ہے اور دسمبر میں پھر کچی پٹائی شروع ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں آلو کی پیداوار اور زیر کاشت رقبہ دونوں مسلسل بڑھ رہے ہیں ۔ اس صدی کے آغاز تک پاکستان میں آلو کی کل پیداوار محض سولہ لاکھ ٹن سالانہ تھی۔ بی ٹی کاٹن کی تباہی کے بعد پنجاب میں آلو کی کاشت صنعتی پیمانے پر شروع ہوئی تو محض دس سال میں پیداوار پینتیس لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔  2023 تک یہ پیداوار تراسی لاکھ ٹن ہو گئی اورپچھلے سیزن یعنی 2025 میں یہ پیداوار ننانوے لاکھ ٹن سالانہ ہو گئی ۔   یعنی ڈھائی دہائیوں میں پاکستان میں آلو کی پیداوار پانچ گنا سے بھی زائد ہو چکی ہے  جبکہ اسی دورانیے میں آبادی میں اضافہ 64 فیصد رہا ہے۔   پچھلے پندرہ برسوں میں آلو کے زیرکاشت رقبے میں دوگنا سے بھی زائد اضافہ ہوا ہے۔

سالزیر کاشت رقبہ (ایکڑز)پیداوار(ٹن)
2010-114 لاکھ بیس ہزار35 لاکھ
2023-248  لاکھ 40 ہزار83 لاکھ
2024-259 لاکھ 30 ہزار99 لاکھ

اگرچہ رواں سیزن کے لیے  پیداوار کے حتمی اعدادوشمار تو سیزن ختم ہونے کے بعد سامنے آئیں گے مگر امکان ہے کہ صرف پنجاب میں یہ پیداوار ایک کروڑ بیس لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف پنجاب میں اس سیزن کے لیے 11 لاکھ 42 ہزار ایکڑ سے زائد ایکڑ رقبے پر آلو کی فصل کاشت کی گئی ہے جو پچھلے سال سے  دولاکھ 21 ہزار ایکڑ(24 فیصد) زیادہ ہے۔

طلب جامد مگر پیداوار میں مسلسل بڑھوتری

آلو کے زیرکاشت رقبے اور پیداوار بڑھنے کا براہ راست تعلق انڈسٹری کی جانب سے ایسے بیجوں اور ورائٹیوں کا متعارف کیا جانا ہے جو روایتی دیسی آلو کی نسبت کئی گنا زیادہ پیداوار دیتی ہیں۔

پنجاب کی آلو کی پٹی میں اس فصل کا ایک پورا ایکو سسٹم وجود میں آ چکا ہے  جس میں  بیجوں، کھادوں اور زرعی ادویات کی ملکی و غیرملکی کارپوریشنز، آلو کی فصل کے لیے درکار آلات   کی لوکل صنعت، کولڈ سٹورز کی چین، سرمایہ کار، صنعتی پیمانے پر فصل تیار کرنے والے بڑے کسان اور آلو کے کھیتوں میں بجائی اور گہائی کے لیے ماہر مزدور خواتین کے منظم گروپس کی موجودگی  اور دستیابی اس علاقے کو آلو بیلٹ بنا تی ہے۔ان اضلاع کی کل کاشت شدہ زمین کا ایک چوتھائی صرف آلو کے لیے مختص ہو جاتا ہے۔ کسی سبزی کی اس بڑے پیمانے پر کاشت بجائے خود ایک غیر معمولی امر ہے۔ آلو کاشت کرنا ایک مہنگا عمل ہے جس پر حکومتی حساب سے دو لاکھ پینسٹھ ہزار روپے اور آزاد ریسرچرز  کے حساب سے تین لاکھ اکتیس ہزار کے قریب فی ایکڑ اوسط خرچہ آتا ہے۔ اتنے اخراجات برداشت کرنا عام کسان کے بس کی بات نہیں۔ اگر یہ اخراجات دیگر فصلوں کی طرح ذرا مناسب ہوتے تو شاید ان اضلاع میں خریف کی دیگر فصلیں ختم ہی ہو جاتیں اور آلو ہر اعتبار سے وہ مقام حاصل کر لیتا جو کسی زمانے میں کپاس کو حاصل تھا۔

  ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی سپورٹ اور ایکو سسٹم کی موجودگی نیز مناسب موسم اور دیکھ ریکھ کے کلچر کے طفیل آلو کی فی ایکڑ پیداوار حکومتی حساب کتاب میں 266 من  جبکہ آزاد ماہرین کے اندازے کے مطابق کے مطابق 350 من تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کو کتنا آلو درکار ہے؟

اس کا جواب بہت مشکل ہے۔ اگرچہ پاکستان میں آلو کی فی کس کھپت کے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک میں آلو کی فی کس کھپت بڑھ رہی ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ فی کس کھپت طلب کا حقیقی اشاریہ نہیں ہو سکتی ۔ فی کس کھپت نکالنے کا فارمولا سادہ ہے جس میں کل پیداوار میں سے برآمدات نکال کر اور درآمدات ، اگر کوئی ہوں، ڈال کر پوری آبادی پر تقسیم کر لیا جاتا ہے ۔ اس میں ایک مسئلہ ہے کہ اس میں ضائع کر دی جانے والی پیداوار اور جانوروں کے معدے میں پہنچنے والا آلو بھی انسانی استعمال میں شامل ہوجاتا ہے۔   دوسرا یہ کہ آلو سستا ہو جائے تو کھپت بڑھ جاتی ہے ، اگر نرخ مناسب رہیں تو کھپت مناسب رہتی ہے۔  پاکستان میں فی کس کھپت  بھی کافی بڑھی ہے ۔

1961 میں ہر پاکستانی سال میں صرف پونے دو کلو آلو استعمال کرتا تھا جو شرح اب بڑھ کر 24 کلوگرام فی کس ہو گئی ہے تاہم یہ دنیا کے ان ممالک سے بہت کم ہے جو آلو کی پیداوار میں پاکستان سے آگے ہیں۔

فی کس کھپت کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے 165 ممالک میں 99 ویں نمبر پر ہے جبکہ آلو پیدا کرنے کے لحاظ سے اس کا نمبر 9واں ہے۔   پیداوار کے حوالے سے پہلے آٹھ ممالک میں چین، بھارت، یوکرین، امریکہ، روس، جرمنی، بنگلہ دیش اور فرانس شامل ہیں۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ آلو پیدا کرنے والے بڑے ممالک فی کس استعمال اور کھپت کے لحاظ سے پاکستان سے کہیں آگے ہیں۔

ملکپیداواری استعداد کے حساب سے نمبرفی کس کھپت (کلوگرام)
چین149
بھارت226
یوکرین3139
امریکہ449
روس587
جرمنی660
بنگلہ دیش752
فرانس853
پاکستان924

پاکستان فی کس کھپت کے اعتبار سے تمام بڑے پیداواری ممالک سے پیچھے ہے جس کا مطلب ہے کہ ہماری آلو کی پیداوار ہماری خوراک کی طلب سے طے نہیں ہو رہی بلکہ انڈسٹری کی ترجیحات سے طے ہو رہی ہے اور اسے ایکسپورٹ کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔  یہ بظاہر بڑی خوشنما بات ہے کہ ہم اپنی ضرورت سے زیادہ آلو پیدا کرتے ہیں جو عالمی سطح پر ٹریڈ ہو سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ  ہم کتنا آلو برآمد کر تے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں اس کی طلب کتنی ہے۔ پچھلے پانچ سال کے اعدادوشمار کے مطابق ہم ہر سال اوسطا صرف ساڑھے سات لاکھ ٹن (دس فیصد ) کے قریب پیداوار برآمد کر پاتے ہیں جس میں سے آدھی سے کچھ کم افغانستان کو جبکہ باقی دیگر بہت سے ممالک کو جاتی ہے۔ 

ملک میں سرکار یا پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے ایسی کوئی کاوش نہیں ہو رہی جس سے ملک کے اندر  آلو کی طلب بڑھنے کا امکان ہو یا اس کی نئی نئی پراڈکٹس اور پکانے کھانے کی تراکیب سامنے آ رہی ہوں یا ریسٹورنٹس میں آلو کی نت نئی ڈشز متعارف کروائی جا رہی ہوں۔ کھابوں میں ہم ابھی دنبے کی شنواری کڑاہی کی منزل پر اٹکے ہوئے ہیں۔  مشرقی یورپ کے ممالک روس ، بیلاروس، پولینڈ اور وسطی ایشیا کے ملک کرغزستان میں آلو کو خوراک میں وہی مقام حاصل ہے جو ہمارے ہاں گندم کو ہے۔ امریکہ اور یورپ کے زیادہ تر ممالک میں آلو سیکنڈ سٹیپل کے طور پر کھایا جاتا ہے۔ اگرچہ ہم گندم کے حوالے سے بحران دربحران کا شکار ہیں مگر ہم آلو کو ملک کی خوراک میں گندم پر انحصار کم کرنے کے دستیاب وسیلے کے طور پر نہیں دیکھتے اور اسے ایک مقبول عام خوراک بنانے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ پاکستان کی گندم کی فی ایکڑ پیداوار 26 من ہے جبکہ آلو ایک ایکڑ  میں گندم سے کم ازکم گیارہ گنا زیادہ پیدا ہوتا ہے اور اس میں موجود غذائیت  اور حیاتین کی مقدار اور تعداد بھی گندم سےکم نہیں ہوتی ۔

موجودہ فی کس کھپت کے اعتبار سے پاکستان کو رواں سال باسٹھ لاکھ ٹن آلو چاہیے جبکہ موجودہ فصل کی پیداوار اس طلب سے دگنی رہنے کا امکان ہے ۔

ملک میں آلوکے سٹورز کی کل تعداد چھ سو قریب ہے جن میں آلو ذخیرہ کرنے کی استعداد 20 لاکھ ٹن سے کچھ زائد ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ اگر پانچ مہینوں میں ملک میں کم ازکم 90لاکھ ٹن آلو ٹریڈ ہو گا اور افغانستان کو اس کا روایتی ساڑھے تین لاکھ ٹن والا حصہ  اور باقی دنیا کو چار لاکھ ٹن والا حصہ بھی نہ گیا تو یہ پیداوار ملکی منڈیوں میں افراط کی غیرمعمولی صورتحال پیدا کر دے گی۔ اگرچہ یہ معمولی برآمدات بھی کسانوں کو خسارے سے نہیں بچا پائیں گی مگر اس سے کم ازکم رواں سیزن کے کچھ ہفتوں میں ریٹ مستحکم ہونے کی امید ہے۔ آلو کے زیرکاشت رقبے اور پیداوار میں مسلسل اضافے سے پیدا ہونے والی افراط سے نمٹنے کا اصل حل یہی ہے کہ آلو کی ملکی طلب میں اضافہ ہو۔

3
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x