پنجاب حکومت کا پہلا اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے صوبے میں بڑھتے ہوئے ڈرون خطرات کے پیشِ نظر پہلی بار ایک جامع اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے 3 ارب روپے مختص کر دیے گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ یونٹ جدید ٹیکنالوجیز پر مبنی ہوگا جس میں ریڈار، جیمنگ (jamming)، ڈائریکٹڈ انرجی (Directed Energy) اور موبائل رسپانس یونٹس شامل کیے جائیں گے تاکہ کم اور درمیانی بلندی والے ڈرونز کو جلدی سے پکڑا اور غیر فعال کیا جا سکے۔

یونٹ کے ڈیزائن کے تحت 6 ریڈار یونٹس تعینات کیے جائیں گے جو کم اور درمیانی بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، جبکہ جیمرز ڈرون کے کنٹرول اور نیویگیشن سگنلز کو روک کر انہیں بے قابو یا زمین پر اتارنے میں مدد دیں گے۔ منصوبے میں شامل ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیار مخصوص خطرناک یا مسلح ڈرونز کو نشانہ بنانے کی تکنیکی اہلیت فراہم کریں گے تاکہ فوری خطرات کو مؤثر طریقے سے ختم کیا جا سکے۔

مزید برآں، مختص کردہ فنڈ میں وہ موبائل رسپانس یونٹس بھی شامل ہیں جو حساس مقامات، سرکاری تنصیبات اور عوامی اجتماعات کے قریب فوری آپریشن اور روک تھام فراہم کریں گی۔ حکومتی بیان کے مطابق موبائل یونٹس کا مقصد فوری ردِعمل، مقامی خطرے کی شناخت اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔

محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد صوبے میں ڈرون سے متعلق حفاظتی خطرات کم ہوں گے اور آئندہ مرحلے میں تربیت، آپریشنل پالیسیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال شفاف اور قانون کے دائرے میں رہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x