حالات کچھ ایسے بنتے جا رہے ہیں جیسے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہو۔
پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے پر ایسے وار کر رہی ہیں جیسے برسوں کی دشمنی ہو، نہ کہ اتحادی حکومت کا حصہ۔ بیانات کا تبادلہ دیکھ کر لگتا ہے کہ اتحادی کم، “اپوزیشن کے ہمزاد” زیادہ ہیں۔ مگر شاید کہانی کچھ اور ہے — شاید یہ ساری لڑائی وہی پرانی فلم کا نیا سیکوئل ہو، جہاں ہر وزیرِاعظم کا انجام ایک جیسا ہوتا ہے: “مدت ادھوری، وعدے ادھورے، خواب ادھورے۔”
پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے — لیاقت علی خان سے آغاز ہوا، جنہوں نے قوم کو نظم و ضبط سکھانے کی کوشش کی، مگر خود نظم کے بیچوں بیچ مارے گئے۔ خواجہ ناظم الدین آئے تو انہیں یاد دلایا گیا کہ اقتدار کی مدت پوری کرنا بدعت ہے۔ محمد علی بوگرہ نے امریکی انداز میں سیاست چلائی، مگر ان کا فارمولہ ملکی درجہ حرارت برداشت نہ کر سکا۔
پھر آئے فیروز خان نون، جنہوں نے گوادر واپس لیا، مگر اپنی حکومت نہ بچا سکے۔ سیاست کا ریٹرن پالیسی شاید اس وقت بھی اتنا ہی سخت تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے خودداری کا نعرہ لگایا، مگر قوم نے خودداری کے جوش میں انہیں خود ہی فارغ کر دیا۔ ان کے بعد محمد خان جونیجو کو سمجھ آیا کہ یہاں فیصلے فائلوں سے زیادہ فون کالوں پر ہوتے ہیں۔
بینظیر بھٹو دو بار آئیں، دو بار گئیں — جیسے سیاست میں “ون اینڈ ون آؤٹ” کا اصول طے ہو۔
نواز شریف تین بار آئے، تینوں بار گئے، اب تو لگتا ہے اقتدار ان سے کہتا ہو: “آپ کا وقت ختم ہوا، اگلا امیدوار بلایا جائے!”
پھر ایک وقت آیا جب “ایک پیج” کی اصطلاح نے سیاست میں نئی روح پھونکی۔ سب نے سمجھا کہ اب شاید کہانی کا انجام بدل جائے گا۔ لیکن ہوا کیا؟ کاغذ پر تو سب ایک پیج پر تھے، مگر شاید فون کی اسکرین الگ الگ کھلی ہوئی تھی۔ حکومت بدلی، نعرے بدلے، مگر انجام وہی پرانا — “نہ مدت پوری، نہ خواب پورا۔”
آج پھر وہی مناظر ہیں — کبھی مرکز اور صوبے کی چپقلش، کبھی بیانات کی گولہ باری۔
سوال صرف ایک ہے: کیا واقعی کوئی سازش ہے جو ہر وزیرِاعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دیتی؟
یا پھر یہ ہماری سیاسی عادت بن چکی ہے کہ جیسے ہی کوئی تھوڑا مستحکم ہوتا ہے، ہم اسے یاد دلاتے ہیں کہ “یہاں لمبی کہانیاں نہیں چلتی۔”