اسلام آباد/کینبرا: آسٹریلیا میں زیرِ تعلیم ایک پاکستانی طالب علم نے اپنی جان کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیش نظر پاکستان واپسی کی صورت میں تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ خدشات ذاتی نوعیت کے معاملات، بشمول ان کی ذاتی شناخت سے متعلق امور، اور خاندانی اختلافات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق سہیل یوسف اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا گئے تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے وہیں مقیم ہیں۔ قیام کے دوران انہوں نے اپنے خاندان کی جانب سے پاکستان واپس آ کر طے شدہ شادی کرنے کی درخواستوں کو مبینہ طور پر اپنے مختلف جنسی رجحان کی وجہ سے مسترد کر دیا۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر ان کے اور اہلِ خانہ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، جبکہ بعض رپورٹس میں ان کی ذاتی شناخت کے بعض پہلوؤں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد دباؤ میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ انہیں خاندان اور مقامی سطح پر بعض افراد کی جانب سے دباؤ اور ممکنہ دھمکیوں کا سامنا رہا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ان حالات کے باعث ان کی ذاتی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے تنازعات میں بعض افراد کو سماجی دباؤ اور دیگر مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب رابطہ کرنے پر سہیل کے والدین نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اپنے بیٹے سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل یوسف نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کے باعث پاکستان واپسی کے لیے تیار نہیں اور اپنے تحفظ کے حوالے سے فکرمند ہیں