مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد کے درمیان گزشتہ رات یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں ایک بڑا واقعہ پیش آیا جس میں اسرائیلی افواج نے بندرگاہی علاقے پر فضائی حملہ کیا اور حوثی تحریک نے جوابی طور پر بیلسٹک میزائل داغنے کا اعلان کیا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے الحدیدہ کی بندرگاہ کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً دس منٹ تک جاری رہنے والی 12 بمباری کارروائیاں کیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے بندرگاہ کے تین اہم ڈوکس پر کیے گئے جو گزشتہ حملوں کے بعد مرمّت کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل بنائے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ علاقے میں آگ بھڑک اٹھی اور مقامی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، تاہم ابتدائی اطلاعات میں جانی یا زخمی نقصانات کی حتمی تفصیل فوری طور پر دستیاب نہیں ہوئی۔
اسرائیلی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ حوثیوں کی مبینہ فوجی سرگرمیوں اور ایران سے ہتھیاروں کی ترسیل کے شبہے کے پیشِ نظر کیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے کارروائی سے قبل بندرگاہ اور وہاں لنگر انداز جہازوں کو خالی کرنے کی وارننگ جاری کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ الحدیدہ ایران سے ہتھیار پہنچانے کا ایک مرکزی راستہ بن چکا ہے۔
جوابی کارروائی میں حوثی فورسز نے اعلان کیا کہ انہوں نے بیلسٹک میزائل داغے جس کے بعد اسرائیل کے متعدد شہروں اور علاقوں میں الرٹس اور سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئیں اور شہریوں میں خوف و ہراس کی صورتحال رہی۔ حوثی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی کارروائیوں کا “ہر قیمت پر” جواب دیتے رہیں گے اور اپنی سرزمین کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دونوں فریقوں کے دعووں کی آزاد ذرائع سے مزید تصدیق درکار ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی ذرائع نے واقعے کی اطلاعات شائع کی ہیں مگر تاحال کسی فریق کی طرف سے نقصان یا جانی نقصانات کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں