اسپنر ہنٹ سے بنگلہ دیش کے ٹرمپ کارڈ تک کا سفر

دبئی: — بنگلہ دیش کی کرکٹ ہمیشہ سے بائیں ہاتھ کے اسپنرز پر انحصار کرتی رہی ہے، چاہے وہ محمد رفیق ہوں یا شکیب الحسن۔ لیکن ایک شعبہ طویل عرصے سے خالی تھا: لیگ اسپن۔ جدید وائٹ بال کرکٹ میں درمیانی اوورز میں وکٹیں لینے کے لیے ایک موثر لیگ اسپنر کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی تھی۔ یہ خلا پر کرنے کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے 2017 میں ’’اسپنر ہنٹ‘‘ پروگرام شروع کیا، اور اسی مہم میں ایک لمبا تڑنگا نوجوان سامنے آیا — رشاد حسین۔

رشاد محض 16 یا 17 برس کے تھے جب انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے سلیکٹرز کو متاثر کیا۔ اگلے ہی سال وہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کرتے نظر آئے۔ ان کی تربیت ہائی پرفارمنس یونٹ اور ڈومیسٹک لیگز کے ذریعے ہوئی، لیکن اصل پہچان انہوں نے محنت، لگن اور سیکھنے کی جستجو سے بنائی۔

ان کے کوچ سہیل اسلام کے مطابق:

’’ابتدا میں وہ بالکل عام بولر تھے، لیکن ان کی محنت اور سیکھنے کی صلاحیت نے انہیں آج کا رشاد حسین بنایا۔‘‘

رشاد کی خاصیت روایتی لیگ اسپن ہے، مگر وہ گیند کو زیادہ موڑنے کے بجائے ڈِپ اور باؤنس پر انحصار کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے گوگلی اور دوسری ورائٹیز کو بھی اپنی بولنگ میں شامل کیا۔

چیلنجز بھی کم نہیں تھے۔ بنگلہ دیش کی پچز عام طور پر نچلی اور اسپیڈ پر مبنی ہوتی ہیں، جو رشاد کے لیے مشکلات کا باعث بنیں۔ تاہم، انہی مشکلات نے انہیں زیادہ ایڈاپٹیو بنایا اور بیرون ملک بہتر پرفارمنس کی راہ ہموار کی۔

رشاد کسی ایک بولر کو اپنا ہیرو نہیں مانتے، بلکہ مختلف لیگ اسپنرز جیسے یزویندر چہل اور عادل رشید کی کامیابیوں سے سیکھتے ہیں۔ ان کی جستجو اور تجزیاتی سوچ نے انہیں بین الاقوامی کرکٹ میں ایک منفرد مقام دیا ہے۔

آج وہ بنگلہ دیش کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے اہم رکن ہیں۔ اگرچہ ان کے کوچ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی بھی “ورک ان پراگریس” ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ رشاد حسین بنگلہ دیش کے لیے نہ صرف حال بلکہ مستقبل کے بھی ٹرمپ کارڈ ہیں۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x