فرخ تنویر ملک
تہران،لندن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایران میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے شہریوں کی تدفین کر دی گئی۔ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع علاقے کوہستک میں امریکی فضائی حملے میں شہید ہونے والے افراد کے جنازے میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی، ایرانی حکام کے مطابق حملے میں ایک چار سالہ بچے سمیت پانچ افراد شہید اور 65 زخمی ہوئے تھے۔ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جبکہ کویت نے متعدد میزائل اور ڈرونز مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں شادی کی تقریب پر بمباری کرنے پر امریکی لیڈروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل احمد واحدی نے خبردار کیا کہ شادی کی تقریب پر امریکی بمباری کا انتقام لیا جائے گا۔ احمد واحدی نے کہا کہ یہ حملہ اس بات کا اظہار ہے کہ دشمن انقلاب ایران اور ایرانی قوم سے کس قدر دشمنی اور نفرت کرتا ہے۔ بے گناہوں کا خون بہانے والے سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سینٹرل کمانڈ جنگی جرائم میں ملوث ہے جس نے سیرک علاقے میں شادی کے گھر پر میزائل حملے کرکے اسے ماتم کدہ میں تبدیل کردیا۔جنرل احمد واحدی کا کہنا تھا کہ حملے میں چار افراد جاں بحق اور 70 زخمی ہوئے جن میں سے سات کی حالت نازک ہے۔ پاسداران نے کہا کہ عالمی ردعمل آنے پر امریکی فوج اور امریکی حکام اس جرم کی عالمی نوعیت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور مضحکہ خیز دعوی کیا جارہا ہے کہ انہوں نے ایرانی شہریوں پر حملہ نہیں کیا۔ قبل ازیں پاسداران انقلاب نے امریکی فوج کی جانب سے افغانستان اور عراق کے مختلف شہروں میں شادی کی تقاریب پر بمباری کی پوری تفصیل جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں کا مقصد عوام کے دلوں میں خوف اور دہشت پیدا کرنے کی بزدلانہ کوشش ہے۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایسے حملوں پر معافی مانگنے کی بجائے امریکی لیڈر جھوٹ بولنے پر اترے ہوئے ہیں۔ ادھر جنوبی ایران کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے مہلک دھماکے سے متعلق ابتدائی تجزیے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہتھیاروں کے ماہرین کے مطابق دستیاب تصاویر اور ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ شادی کی تقریب کے مقام پر ممکنہ طور پر امریکی ساختہ جنگی ہتھیار براہِ راست گرا، تاہم امریکا نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ تصاویر اور ویڈیوز کا چار فوجی ہتھیاروں کے ماہرین نے جائزہ لیا۔ ان میں سے تین ماہرین نے کہا کہ عمارت کی چھت کو پہنچنے والا نقصان کسی دوسرے ہدف سے ٹکرا کر واپس آنے والے میزائل یا ایرانی فضائی دفاعی میزائل کے مقابلے میں براہِ راست حملے سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔یہ واقعہ یکم ستمبر کو جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے دوران پیش آیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں میں ایران کے پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی مراکز، ریڈار اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔