بلیک ہولز کا بڑا اسرار حل کرلیاگیا

فرخ تنویرملک

سڈنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلیک ہول کے بارے میں میں آپ نے کافی کچھ سنا یا پڑھا ہوگا مگر اس کائناتی اسرار کے بارے میں کافی کچھ اب بھی معلوم نہیں ہوسکا ہے۔مگر اب سائنسدانوں نے بلیک ہول کے ایک معمے کو حل کرنے کا دعوی کیا ہے۔ایک نئی تحقیق میں بلیک ہول کی ‘ڈکار’ کے راز کو حل کرنے کا دعوی کیا گیا۔بنیادی طور پر اس سے مراد بلیک ہول کی جانب سے ستاروں کو ہضم کرنے کے دوران خارج کی جانے والی توانائی ہے جس کے دوران مادوں کو بلیک ہولز کی جانب سے خلا میں بہت زیادہ دور تک پھینکا جاتا ہے۔بلیک ہولز ایسے کائناتی جسم ہیں جو بہت زیادہ موٹے ہوتے ہیں اور ان کی کشش ثقل روشنی اور مادے کے باہر نکلنے کے حوالے سے بہت زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔بلیک ہولز کی سرحد کو ایونٹ ہورائزن کہا جاتا ہے جہاں سے باہر نکلنے کے لیے روشنی کی رفتار سے زیادہ سے سفر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر آسٹریلیا کی کرٹین یونیورسٹی کی نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ آپ کو بلیک ہول کے بہت زیادہ قریب جانا ہوتا ہے تاکہ ایونٹ ہورائزن میں داخل ہوسکیں اور وہاں پہنچنے پر ستارے تباہ ہو جاتے ہیں۔سائنسدانوں کی جانب سے کئی بار بلیک ہولز کے قریب پہنچنے پر ستاروں کی تباہی کا مشاہدہ کیا ہے جس کے لیے اسپیگیٹی فیکیشن کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی کشش ثقل کی وجہ سے کسی جسم کا کھنچ کر لمبی لکیر یا اسپیگیٹی کی طرح پتلا ہو جانا۔اسپیگیٹی فیکیشن کے بعد بلیک ہول بتدریج ستاروں کو نگل لیتا ہے، جس کے بعد دیگر مادے واپس خلا میں ایک فوارے کی طرح خارج ہوتے ہیں۔محققین کے مطابق آپ ایسا کہہ سکتے ہیں کہ یہ بلیک ہول کی جانب سے لی جانے والی ڈکار ہے۔مگر تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسا 2 مختلف مراحل کے دوران ہوتا ہے۔محققین نے بتایا کہ اس سے پہلے یہ عمل ایک اسرار تھا کیونکہ کئی بار مادوں کا اخراج 2 مراحل میں کبھی ایک سال کے درمیان ہوتا ہے جبکہ کئی بار 3 یا 5 سال بعد ایسا ہوتا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x