عبدالجبار
تہران،واشنگٹن۔۔۔۔۔۔۔۔ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہوگئی ہے ۔ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اپنے دشمنوں کے لیے کئی سرپرائزز موجود ہیں۔ایرانی خبررساںادارے کے مطابق مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ ہمیں ابھی ان سرپرائزز کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے، تاہم دفاعی صنعتوں میں جاری کام، ایرانی علم و صلاحیت اور ایرانی نوجوان ان شا اللہ اچھے سرپرائزز سامنے لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سب کو بالخصوص دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ مقررہ وقت پر ایران کے ان سرپرائزز سے آگاہ ہو جائیں گے۔رپورٹس کے مطابق جنگ کو شروع ہوئے 6 ماہ گزر گئے، اس دوران تہران نے مشرقِ وسطی میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا کے پاس میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے، جن کی تیاری مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ وقت طلب بھی ہے۔ادھر ایران میں جاری جنگ نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، مہنگائی میں اضافے اور معاشی مشکلات کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔عرب میڈیا سے گفتگو کے دوران تہران کی رہائشی مریم نے بتایا کہ جنگ سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی، جنگ شروع ہونے کے بعد گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے مجھے ملازمت تلاش کرنا پڑی کیونکہ ہر چیز انتہائی مہنگی ہو چکی ہے۔ایک اور شہری ایلار کے مطابق جنگ کا نوجوانوں پر خاص طور پر گہرا اثر پڑ رہا ہے، نوجوانوں میں امید ختم ہوتی جا رہی ہے، چاہے وہ کتنی ہی محنت کریں، انہیں آگے بڑھنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔تہران میں کھانے کا کاروبار کرنے والے امید نامی شہری نے عرب میڈیا کے رپورٹر کو بتایا کہ کاروبار تقریبا ختم ہو چکا ہے جبکہ کرایوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کی اجرت ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے اور جنگ کے باعث کاروباری حالات انتہائی دشوار ہیں۔ اسی طرح ایران کے دارالحکومت تہران کے رہائشی محمد نے بتایا کہ ایران عراق جنگ کے دور سے بھی گزر چکے ہیں جب لوگوں کے پاس تقریبا کچھ نہیں تھا۔محمد کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام ایک بار پھر ثابت قدم رہیں گے اور ان آزمائشوں سے سرخرو ہوں گے۔دوسری جانب وائٹ ہائوس اور پینٹاگون نے اسلحے اور گولہ بارود کی قلت کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔دوسری جانب امریکی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ ایران ایک بار پھر مذاکرات میں دلچسپی لے رہا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے حوالے سے تاحال گریزاں ہیں ۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، عمان اور قطر کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔