نثاراحمد
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔ایوان بالا میں حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن تنظیم نو ترمیمی بل 2026 واپس لے لیا۔تفصیل کے مطابق سینیٹ اجلاس میں حکومت کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ترمیمی) بل 2026 واپس لے لیا گیا ۔بل واپس لینے کی تحریک وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جگہ وزیر مملکت طلال چوہدری نے سینیٹ میں پیش کی۔حکومت کی جانب سے بل واپس لینے کی بنیادی وجہ ٹیلی کام شعبے کو درپیش رائٹ آف وے کے دیرینہ مسائل کا موثر حل نہ ہونا قرار دی گئی ہے۔یہ بل 15 جون 2026 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، مجوزہ قانون میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے تحت رائٹ آف وے کے نظام میں ترامیم کی تجویز دی گئی تھی، جس کا اطلاق نجی، مشترکہ ترقیاتی اور سرکاری املاک پر ہونا تھا۔مجوزہ ترامیم کے تحت رائٹ آف وے کی منظوری کیلئے وقت مقرر کرنے کی تجویز تھی جبکہ پراپرٹی مینیجرز یا سرکاری اداروں کو جواب دینے کے لیے 30 دن جبکہ ریفر کیے گئے معاملات پر متعلقہ حکومت کو فیصلہ کرنے کیلئے 45 دن دینے کی تجویز شامل تھی۔بل میں مشترکہ ترقیاتی اور سرکاری املاک پر زیرِ زمین رائٹ آف وے مفت فراہم کرنے، بعض عارضی اور ٹیلی کام تنصیبات کو استثنی دینے اور رائٹ آف وے میں غیر قانونی رکاوٹ ڈالنے پر جرمانوں کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے مجوزہ ترامیم کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ بل مطلوبہ پالیسی اور ریگولیٹری نتائج حاصل کرنے میں موثر ثابت نہیں ہو رہا، خصوصا رائٹ آف وے کے مسائل کے حل کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ٹیلی کام شعبے میں رائٹ آف وے اب بھی فائبر، موبائل اور دیگر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بل واپس لینے کے بعد حکومت کی جانب سے ان مسائل کے حل کے لئے نیا اور نظرثانی شدہ طریقہ کار وضع کیے جانے کا امکان ہے۔