نثار احمد
اسلام آباد۔۔۔سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا اور ٹرائل کورٹ و سندھ ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایم کیو ایم سے متعلق ریمارکس حذف کرنے کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے کیونکہ فیصلہ ہی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ عدالت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فریق بنانے کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔ سماعت کے دوران جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ زبیر چریا کا اعترافی بیان موجود ہے جبکہ عبدالرحمان بھولا کا نہیں، اور اگر بھتہ ایم کیو ایم کے لیے مانگا گیا تھا تو دیگر بری ہونے والے رہنماؤں کی بریت کو کیوں چیلنج نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ بلدیہ فیکٹری میں کیمیکل استعمال ہونے کے شواہد نہیں ملے اور استغاثہ کا مؤقف یہ نہیں تھا کہ لوگوں کو مارنا ملزمان کا مقصد تھا۔ ملزمان پر گیارہ ستمبر دو ہزار بارہ کو بلدیہ فیکٹری میں آگ لگا کر دو سو انسٹھ افراد کو زندہ جلانے اور انسٹھ افراد کو زخمی کرنے کا الزام تھا۔ عدالت کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔