عبد الجبار
تہران۔۔۔۔۔۔۔۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سیرک میں شادی کی تقریب پر امریکی حملے کو واشنگٹن کی اخلاقی گراوٹ کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔ ترجمان وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی حملے نے ایران کے خلاف واشنگٹن کی مبینہ غیر قانونی جنگ کی حقیقت دنیا کے سامنے عیاں کر دی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق منگل کو صوبہ ہرمزگان کے شہر کوہستک میں رہائشی عمارت میں جاری شادی کی تقریب امریکی حملے کے ملبے اور شیلنگ کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد شہید اور 65 زخمی ہوئے۔بقائی نے امریکی اقدامات کے دفاع میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اصل حقیقت امریکی حملوں میں ہونے والے جانی نقصان اور جرائم ہیں۔قبل ا زیں ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت(آئی سی سی)کو خط لکھ کر جنوبی ایران میں امریکی حملوں کی مذمت کی ہے، رپورٹس کے مطابق جن میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا۔اپنے خط میں ہلالِ احمر نے کہا ہے کہ فضائی حملے میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ مزید 67 افراد زخمی ہوئے۔ہلالِ احمر کے مطابق یہ حملہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے اس وقت ہوا جب سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی ایک تقریب جاری تھی۔ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ زخمیوں میں سے بعض کی تشویشناک حالت کے پیشِ نظر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔