مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں:سپریم کورٹ

اسلام آباد۔۔۔سپریم کورٹ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر وارث مسیح کی اپیل خارج کردی۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں۔ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں جو تحفظ، احترام اور وقار کی حقدار ہیں۔

سپریم کورٹ کےتین رکنی بینچ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کی سماعت کی،
تحریری فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے جاری کیا۔

عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں قرار دیا کہ مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں۔ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں جو تحفظ، احترام اور وقار کی حقدار ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ معمولی باتوں پر خواتین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک اور بہیمانہ تشدد قابلِ مذمت ہے، جبکہ منشیات کی لت خواتین پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسی کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے مقدس رشتے کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ریاست پر زور دیا کہ جامع قانون سازی، مؤثر نفاذ کے نظام اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ہونے والے ظلم کا سدباب کیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کا تحفظ آئین کے آرٹیکل نو اور آرٹیکل پچیس کے تحت ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

ٹرائل کورٹ نے وارث مسیح کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ بچوں کو زخمی کرنے پر ایک سال قیدِ بامشقت اور دیت کا پانچ فیصد جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

ملزم نے چھ جولائی 2015 کی رات کو اپنی بیوی اور دو کمسن بچوں، رمشا اور رمیش کو ڈنڈوں کے وار کر کے شدید زخمی کردیا تھا۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے اور دماغی چوٹوں کی وجہ سے ہوئی ۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x