پاکستان بزنس فورم نےاقتصادی رابطہ کمیٹی کے ذریعے سیلاب زدگان اور زرعی شعبے کی بحالی کے لیے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان بزنس فورم نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو خط لکھا ہے جس میں
کہا گیا ہے کہ زرعی شعبہ ناگہانی صورتحال سے دوچار ہے اور حکومت کو صحیح معنوں میں بروقت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ پی بی ایف نے تجویز دی کہ آئی ایم ایف کو عوامی ریلیف کے لیے قائل کیا جائے، بصورتِ دیگر ٹیکس محصولات میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خط میں گندم کی سپورٹ پرائس دو سال کے لیے بحال کرنے، سیلاب متاثرہ علاقوں کے تین ماہ کے بجلی کے بل مکمل معاف کرنے اور بینکوں کو فوری آسان قرض پروگرام شروع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پی بی ایف نے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے یوریا اور ڈی اے پی کھاد پر 30 فیصد سبسڈی دینے،مقامی کپاس پر دو سال تک 18 فیصد سیلز ٹیکس اور چاول کی برآمدات پر نارمل ٹیکس رجیم مؤخر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
فورم نے کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کو ہدایت کی جائے کہ وہ نومبر میں باقی ماندہ گنے کی فصل منصفانہ قیمت پر خریدے۔
پی بی ایف نے صرف ایک ماہ کا بجلی کے بل کو موخر کرنے کو سیلاب زدگان کے ساتھ مذاق قراردیتے ہوئے اپنی سفارشات کو زرعی ایمرجنسی کا حصہ بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔