فرخ تنویر ملک
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بینکاری شعبے کے ماہرین نیکہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل بینکاری اور ادائیگیوں کے نظام میں تیزی سے ہونے والی توسیع نے ٹیکنالوجی اور اعداد و شمار کا مضبوط بنیادی ڈھانچہ قائم کر دیا ہے جس سے مالیاتی شعبے کی جدید کاری کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس مرحلے میں مصنوعی ذہانت کو زرمبادلہ کی پیش گوئی، نقدی کی دستیابی کے انتظام اور بینکوں کے مالیاتی امور چلانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری تا مارچ 2026 کے دوران ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد 3.7 ارب رہی جن کی مجموعی مالیت 168.8 کھرب روپے تھی۔ حجم کے لحاظ سے ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے 92 فیصد لین دین ہوئے۔ ان ذرائع سے تقریبا 3.4 ارب ادائیگیاں کی گئیں جن کی مالیت تقریبا 68 کھرب روپے رہی جبکہ مارچ تک موبائل بینکاری اور ڈیجیٹل والیٹ کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 132 ملین سے تجاوز کرچکی تھی۔بینکاری شعبے کے پاس جدید ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کی خاطر خواہ مالی صلاحیت بھی موجود ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق دسمبر 2025 کے اختتام تک بینکاری شعبے کے اثاثے 17.8 فیصد اضافے سے 63.2 کھرب روپے ہوگئے جبکہ جمع شدہ رقوم میں 24.7 فیصد اضافہ ہوا۔ٹیکس کٹوتی کے بعد بینکوں کا منافع ایک سال پہلے کے 644 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 716 ارب روپے ہوگیاجبکہ بینکوں کی سرمایہ جاتی کفایت کی شرح بھی بہتر ہو کر 20.8 فیصد ہوگئی۔بینکاری ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت شعبے کو صرف صارفین کے لیے ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے تک محدود رہنے کے بجائے مصنوعی ذہانت اور اعداد و شمار پر مبنی ٹیکنالوجی کو بینکوں کے اندرونی بنیادی کاموں، بالخصوص مالیاتی انتظام، نقدی کی دستیابی اور خطرات کے انتظام میں استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔یہ موقع اس لیے بھی اہم ہوتا جارہا ہے کہ دنیا کے بڑے بینک بھی ان شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔اینٹ انٹرنیشنل نے حال ہی میں بتایا کہ سٹی بینک، ایچ ایس بی سی، ڈوئچے بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور بارکلیز سمیت چھ بڑے بینک اس کے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل فالکن کے ساتھ شراکت کر رہے ہیں۔ یہ ماڈل مالیاتی پیش گوئی اور نقدی سے متعلق خطرات کے انتظام کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اینٹ انٹرنیشنل کے مطابق زیادہ درست پیش گوئی سے زرمبادلہ کے خطرے سے بچا اور رقوم کی تقسیم کے اخراجات میں 60 فیصد سے زیادہ کمی ہوسکتی ہے، تاہم یہ کمپنی کا اپنا تخمینہ ہے اور اسے صنعت کے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معیار کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔یہ پیش رفت بینکاری نظام میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے عالمی استعمال کا حصہ ہے۔ جون میں بینک آف امریکا نے کہا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کے پیچیدہ بہا، زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھا اور نقدی سے متعلق خطرات ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی مالیاتی، تجارتی اور کرنسی سے متعلق سلوشنز کی طلب بڑھا رہے ہیں۔ بینک کے مطابق وہ ٹیکنالوجی پر سالانہ 13 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔جولائی میں رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ وال اسٹریٹ کے بڑے بینک تجارت اور مالیاتی انتظام سمیت مختلف شعبوں میں ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام کا استعمال بڑھا رہے ہیں جو محدود انسانی مداخلت کے ساتھ متعدد کام انجام دے سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق کے پی ایم جی کے ایک سروے میں شامل 51 فیصد بینک پہلے ہی ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام آزمائش کے مرحلے میں لے جا چکے تھے۔دوسری جانب پاکستان نے ڈیجیٹل لین دین کا خاطر خواہ بنیادی ڈھانچہ قائم کرلیا ہے، تاہم مالی سال 2025-26 کی سرکاری معلومات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ پاکستان میں خصوصی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو زرمبادلہ کی پیش گوئی، خطرے سے بچا یا دن کے دوران نقدی کی ضروریات سے متعلق فیصلوں کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔اس شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ زرمبادلہ کی دستیابی اور اس کا انتظام بینکاری نظام کا بنیادی کام ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق 21 اگست کو پاکستان کے مجموعی قابلِ استعمال زرمبادلہ ذخائر 22.59 ارب ڈالر تھے جبکہ 27 اگست کو ڈالر کی اوسط شرح خرید کے لیے 277.2321 روپے اور فروخت کے لیے 277.6572 روپے رہی۔بینکاری ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی پیش گوئی سے شرح مبادلہ کا خطرہ ختم نہیں ہوگا، تاہم اس سے مالیاتی شعبے کے ماہرین کو کرنسی کی ترسیلات اور ادائیگیوں کا بہتر تجزیہ کرنے، نقدی کی ضروریات کا پہلے سے اندازہ لگانے اور خطرے سے بچا کے بہتر فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔