نثار احمد
فیصل آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کھجور پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ ایگرکلچرل ریسرچ کونسل، سوشل سائنسز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹرکی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کھجور کی اوسط سالانہ پیداوار تقریباً 5 لاکھ 50ہزار سے 6 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ کھجو ر کی مجموعی پیداوار میں سندھ کا حصہ 50 فیصد ہے جس میں خیر پور میرس کا حصہ تقربیا90فیصد ہے۔صوبہ سندھ میں کھجور کی پیداوار علاقہ کی معیشت میں نمایاں حصہ کی شراکت دار ہے جو نہ صرف زرعی معیشت بلکہ برآمدات میں بھی کلیدی کردار کی حامل ہے۔ کھجور کی فصل کی برداشت کے بعد مختلف عوامل کے نتیجہ میں 20تا 30 فیصد پیداوار کا نقصان ہو جاتا ہے جس سے نہ صرف کاشتکار کی آمدنی متاثر ہوتی بلکہ کھجور کی ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی پیداوار پر بھی منفی اثرارت مرتب ہوتے ہیں۔ملک اور مجموعی طور پر سندھ میں کھجور کی پیداوار کی بھرپور صلاحیتوں کے باوجود کھجو ر کی صنعت کی پیداوار استعداد سے کم ہے۔ برداشت کے بعد انتظامی، پراسیسنگ کی صلاحیتوں میں کمی اور منڈیوں تک رسائی تک مشکلات کی وجہ سے کھجور کا ویلیو ایڈیڈ شعبہ حقیقی استعداد سے ترقی نہیں کر رہا۔رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ کھجور کی زیادہ تر پیداوار مقامی منڈیوں میں فروخت کی جاتی جہاں پرقیمتوں کا تعین طلب اور رسد کی بنیاد پر ہونے کی وجہ سے کاشتکار طبقہ کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔اس کے علاوہ پراسیسنگ کی نا کافی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کی وجہ سے کھجور کی ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی تیاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کا فقدان اور سٹوریج کی سہولیات سمیت ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کے مسائل بھی کھجور کے پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کے بنیادی اسباب میں شامل ہیں۔