فرخ تنویر ملک
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا کی بڑی معیشتوں میں مینوفیکچرنگ اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کے ابتدائی آثار پاکستان کے برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں تاہم اس کے لیے مقامی صنعت کاروں کو اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے، مصنوعات میں تنوع پیدا کرنے اور عالمی سپلائی چین میں اپنی شمولیت مضبوط کرنے کی ضرورت ہوگی۔جون، جولائی اور اگست کے دوران جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار سے دنیا کی کئی بڑی معیشتوں میں صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔امریکا میں جون کے دوران صنعتی پیداوار میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے مطابق اسی ماہ مینوفیکچرنگ پیداوار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تاہم دوسری سہ ماہی کے دوران اس میں سالانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی صنعتی پیداوار بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.1 فیصد زیادہ رہی۔امریکی تجارت کے اعداد و شمار سے بھی مسلسل توسیع کا رجحان ظاہر ہوتا ہے۔ امریکی بیورو آف اکنامک اینالیسس کی اگست میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اشیا اور خدمات کی برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11.7 فیصد زیادہ رہیں۔یورپ میں بھی صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔ جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جون میں مینوفیکچرنگ کے نئے آرڈرز میں ماہانہ بنیاد پر 3.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ صنعتی پیداوار میں 0.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جرمنی کی برآمدات بھی اس ماہ 0.9 فیصد بڑھیں۔دوسری جانب چین نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران صنعتی شعبے میں مضبوط شرح نمو برقرار رکھی۔ قومی ادارہ شماریات کے جولائی میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی صنعتی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 5.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مینوفیکچرنگ پیداوار 5.6 فیصد بڑھی۔صرف جون میں صنعتی پیداوار گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 5.3 فیصد بڑھی جو مئی کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ زیادہ تیز رفتار تھی۔ ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں خاص طور پر نمایاں ترقی ہوئی جہاں ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ پیداوار میں 13.3 فیصد جبکہ ڈیجیٹل مصنوعات کی تیاری میں 12.3 فیصد اضافہ ہوا۔یہ دونوں تیزی سے ترقی کرنے والے شعبے مجموعی صنعتی پیداوار میں پانچویں حصے سے کچھ زیادہ حصہ رکھتے ہیں، تاہم مذکورہ مدت کے دوران چین کی مجموعی صنعتی ترقی میں تقریبا آدھا حصہ ان دونوں شعبوں کا رہا۔پاکستان کے لیے بڑی معیشتوں میں مینوفیکچرنگ اور تجارتی سرگرمیوں میں یہ بہتری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک اپنی کھوئی ہوئی برآمدی رفتار بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملکی اشیا کی برآمدات 5.93 فیصد کم ہوکر 30.139 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال میں 32.040 ارب ڈالر تھیں۔ جون میں برآمدات 9.08 فیصد کمی کے ساتھ 2.252 ارب ڈالر رہیں۔