نیویارک: یوکرینی صدر وولودیمیر زلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پرزور خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے کو جنگ زدہ اقوام کے لیے غیر مؤثر قرار دیا اور کہا کہ “صرف ہم ہی اپنی سلامتی کے ضامن ہیں۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا تاریخ کی “سب سے تباہ کن ہتھیاروں کی دوڑ” کا سامنا کر رہی ہے جسے مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی نے جنم دیا ہے۔
زلنسکی نے کہا: “سودان، صومالیہ، فلسطین یا کوئی بھی جنگ زدہ قوم اقوام متحدہ سے کیا توقع رکھے؟ دہائیوں سے صرف بیانات ملے ہیں۔”
یوکرینی صدر نے کہا کہ اب دنیا میں “حقیقی سلامتی کی ضمانت ہتھیار ہیں، نہ کہ کاغذی وعدے”، اور یہ کہ عالمی قانون صرف اسی وقت چلتا ہے جب طاقتور اتحادی اس کے دفاع کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے زور دیا: “یہ سب کچھ بھی ہتھیاروں کے بغیر ممکن نہیں۔”
ڈرون بمقابلہ ڈرون کی جنگ
اپنے خطاب میں زلنسکی نے خبردار کیا کہ “ہتھیار ہماری دفاعی صلاحیت سے تیز رفتار ترقی کر رہے ہیں، اب ہزاروں لوگ پیشہ ورانہ طور پر ڈرون کے ذریعے قتل کرنا جانتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ماضی میں صرف طاقتور ممالک ہی مہنگے اور پیچیدہ ڈرون استعمال کر سکتے تھے لیکن اب عام ڈرون بھی ہزاروں کلومیٹر تک پرواز کر سکتے ہیں۔
“اب یہ صرف وقت کی بات ہے کہ ڈرون ایک دوسرے کے خلاف لڑیں گے، تنصیبات پر حملے کریں گے اور خودکار طور پر انسانوں کو نشانہ بنائیں گے۔”
زلنسکی نے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت پر مبنی “سب سے تباہ کن ہتھیاروں کی دوڑ” میں داخل ہو چکی ہے اور اس وقت فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تاخیر سب کے لیے مہلک ثابت ہوگی۔
روس کو روکنے کی اپیل
یوکرینی صدر نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کی مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ابھی اس جنگ کو روکنا اور ہتھیاروں کی دوڑ کو قابو کرنا زیادہ سستا ہے، ورنہ کل زیر زمین اسکول اور بڑے بنکر بنانے پر کھربوں ڈالر خرچ ہوں گے۔”
انہوں نے خبردار کیا: “پیوٹن کو اب روکنا ہر اس خطرے سے سستا ہے جو سمندری ڈرون، جوہری ڈرون یا دہشت گرد حملوں کی شکل میں مستقبل میں سامنے آسکتا ہے۔”