واشنگٹن،ا ستنبول ،ویانا۔۔۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکی فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کی بجائے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کر تے ہوئے کہا کہ اس کے میزائل اور دفاعی نظام پر کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔ غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق وائٹ ہائو س میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ان سے خلیج میں امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں، وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن دی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ صرف وہ ہی یقینی طور پر جانتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امید ہے ہمارا معاہدہ ہو جائے گا۔ اگر ہم کسی معاہدہ پر پہنچ جاتے ہیں تو اچھا ہوگا۔ اگر ہمارا معاہدہ نہیں ہوتا تو ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت کا منصوبہ نہیں لیکن تہران باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر مذاکرات کے لے تیار ہے۔ استنبول میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران عباس عراقچی نے واضح کیا کہ تہران تمام مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو تیار ہے، تاہم یہ مذاکرات انصاف اور قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں لیکن دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان کسی ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا تاہم ایران منصفانہ اور برابری کی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس معاملے پر ایران ترکیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ ایران مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہے اور اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ کشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دبا کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔ ادھر کریملن نے بتایا کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ریا نووسوتی کی کر کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماوں نے دیگر معاملات کے علاوہ مشرق وسطی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے خبر دار کیا کہ وہ پاسداران انقلاب کے کسی بھی غیر محفوظ اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق سینٹکام نے بیان میں کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اتوار سے 2 روزہ بجری مشقوں کا اعلان کیا ہے۔ پاسداران انقلاب سمندر میں اشتعال انگیزی سیگریز کرے۔سینٹکام نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 100 سیزائد تجارتی جہاز گزرتے ہیں، ایرانی مشقیں محفوظ، پیشہ ورانہ اندازمیں ہونی چاہییں، یہ بین الاقوامی میری ٹائم ٹریفک کی آزادنہ نقل وحمل کیلییخطرہ نہیں ہوناچاہیے۔سینٹکام نے خبردار کیا کہ امریکی فورسز، علاقائی پارٹنرز اور کمرشل جہازوں کے قریب غیرمحفوظ اور غیرپیشہ ورانہ رویے سے تصادم کاخطرہ پیداہوسکتا ہے۔سینٹکام کے مطابق وہ پاسداران انقلاب کے کسی بھی غیرمحفوظ اقدام کو برداشت نہیں کریں گے اور امریکی اہلکاروں، جہازوں،طیاروں کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔دوسری جانب عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کی دھمکیاں عراق جنگ کی تیاریوں جیسی گونج رکھتی ہیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں البرادعی نے کہا کہ یکطرفہ دھمکیاں ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب ایران کی جانب سے کوئی واضح یا موجود خطرہ نظر نہیں آرہا اور یہ صورتحال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران پرحملوں کی دھمکیاں عراق جنگ کی تیاریوں جیسی گونج رکھتی ہیں، ایسا ہی عراق کیخلاف غیر اخلاقی اور غیرقانونی جنگ سے پہلے کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانی زندگی اور علاقائی تباہی مسئلہ ہی نہیں سمجھا جا رہا، ہم کبھی سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔
ایران معاہدے کا خواہاں ہے، صدر ٹرمپ
-
By Abdul Jabbar
- January 31, 2026
Show Comments (0)
Hide Comments (0)
0
0
votes
Article Rating
Subscribe
Login
0 Comments
Oldest
Newest
Most Voted