مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیزی سے پھیلتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جو اب ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی، جیمنی اور ڈیپ سیک جیسے ماڈلز نے جہاں کام کو سہل بنا دیا ہے، وہیں ان کے ساتھ ایک تشویشناک پہلو بھی جڑا ہے—پانی کا بے تحاشا استعمال۔
یہ پانی براہِ راست اے آئی ماڈلز نہیں بلکہ انہیں چلانے والے ڈیٹا سینٹرز استعمال کرتے ہیں۔ یہ سینٹرز ہزاروں کمپیوٹرز پر مشتمل ہوتے ہیں جو مسلسل چلنے سے شدید گرمی پیدا کرتے ہیں، اور اس گرمی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے لاکھوں لیٹر پانی خرچ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک اوسط ڈیٹا سینٹر روزانہ 11 سے 19 ملین لیٹر پانی استعمال کرتا ہے، جو ایک چھوٹے شہر کی آبادی کے برابر ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ہر بار جب کوئی صارف اے آئی سے سوال پوچھتا ہے تو بیک گراؤنڈ میں پانی کی ایک مخصوص مقدار استعمال ہوتی ہے۔ گوگل کے مطابق اس کا جیمنی ماڈل ایک سوال کے جواب میں تقریباً 0.26 ملی لیٹر (تقریباً پانچ قطرے) پانی خرچ کرتا ہے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی کا تخمینہ 5 سے 30 ملی لیٹر تک ہے، جو کہیں زیادہ ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2027 تک عالمی سطح پر اے آئی کی طلب پانی کے استعمال کو ڈنمارک کے سالانہ پانی کے استعمال سے چار سے چھ گنا بڑھا سکتی ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان علاقوں کے لیے تشویش ناک ہے جہاں پانی پہلے ہی ایک نایاب نعمت ہے۔
اس بڑھتے خطرے کو کم کرنے کے لیے مختلف کمپنیاں ایئر کولنگ اور لیکویڈ کولنگ جیسی نئی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہی ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز ایسے علاقوں میں قائم کیے جائیں جہاں پانی کی وافر دستیابی ہو۔