تجارتی خسارہ اضافے کیساتھ انتیس فیصد ہوگیا

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔مالی سال دوہزار پچیس چھبیس کے پہلے دو ماہ میں تجارتی خسارہ انتیس فیصد بڑھ گیا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق اگست کے دوران برآمدات سالانہ بنیادوں پر بارہ اعشاریہ انچاس فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر دس اعشاریہ انتالیس فیصد کمی کے ساتھ  پانچ اعشاریہ ایک ارب ڈالر رہیں، اسی عرصے میں درآمدات چودہ اعشاریہ ترپن فیصد بڑھ کر گیارہ اعشاریہ بارہ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

ٹیکسٹائل سیکٹر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ نٹ ویئر کی برآمدات میں سالانہ دو اعشاریہ اٹھائیس اور ماہانہ تیرہ اعشاریہ اٹھاون فیصد کمی ہوئی۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات آٹھ اعشاریہ چھببیس فیصد سالانہ اور اٹھارہ اعشاریہ چالیس فیصد ماہانہ گر گئیں۔ بیڈ ویئر میں پانچ اعشاریہ چورانوے اور کپاس کے کپڑے میں بارہ اعشاریہ چوالیس فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔

چاول کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی۔ مجموعی طور پر انتالیس اعشاریہ چالیس فیصد اور ماہانہ پندرہ اعشاریہ ستاسی فیصد کمی دیکھی گئی۔ باسمتی چاول کی برآمدات قریباً اڑتالیس فیصد کم رہیں۔تاہم کاٹن یارن کی برآمدات سولہ اعشاریہ اٹھاسی فیصد جبکہ سیمنٹ کی برآمدات تہتر فیصد بڑھ گئیں۔

خام تیل کی درامد میں سالانہ بنیادوں پر پندرہ فیصد کمی ہوئی، لیکن ماہانہ بنیادوں پر بائیس فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات سالانہ پانچ فیصد زیادہ جبکہ ماہانہ چوالیس فیصد کم رہیں۔ پام آئل کی درآمدات چونتیس فیصد بڑھ گئیں۔

ایل این جی کی درآمدات سالانہ چھببیس فیصد کم لیکن ماہانہ انیس فیصد زیادہ رہیں۔ فولاد و لوہے کی درآمدات اکاسی فیصد زیادہ ہوئیں۔ موبائل فونز کی درآمدات میں اٹھانوے فیصد اضافہ جبکہ کاروں کی درآمدات میں پچھتر فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x