اسلام آباد۔۔۔سپریم کورٹ نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ تشکیل دینے کے معاملے میں سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے درخواست واپس کردی۔
یہ درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی تھی۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس معاملے میں عوامی اہمیت کا پہلو کیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ انفرادی شکایت کو آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر نہیں کیا جا سکتا اور اس ضمن میں اطمینان بھی نہیں دلایا گیا۔
اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا کہ درخواست میں مختار استدعائیں کی گئی ہیں جو قابلِ سماعت نہیں۔
مصطفی نواز کھوکھر نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے 31 اکتوبر کے فیصلے پر عملدرآمد کی استدعا کی تھی۔