سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کا اجلاس،کمیٹی کی چیئرمین سینیٹر شیری رحمان کی سیلاب متاثرین کی مالی مدد میں تاخیر پرحکومت پر کڑی تنقید،منی بجٹ کی بجائے عالمی امداد کو متحرک اور اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل کا مطالبہ بھی کردیا۔
اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ سیلاب سے ملک بھر میں 30لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، 998 افراد جاں بحق جبکہ 1062 زخمی ہوئے۔ پنجاب میں اکیلے 29 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور اب تک 2000 سے زائد ریلیف کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں۔
شیری رحمان نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو بی آئی ایس پی کے تحت فوری مالی امداد فراہم کی جائے، تاخیر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو منی بجٹ پر غور کرنے کے بجائے عالمی امداد کو متحرک اور اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل کرنی چاہیے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اس بار ماحولیاتی تبدیلی کا آغاز بونیر اور گلگت میں فلیش فلڈنگ سے ہوا۔پاکستان دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ درجہ حرارت میں اضافے سے مستقبل میں بارشوں اور شدید موسموں کے اثرات مزید بڑھیں گے۔
اجلاس میں پانی کے معیار پر بریفنگ دی گئی۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق راول ڈیم کو 100 فیصد غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے جبکہ فلٹریشن کے بعد بھی 62 فیصد پانی غیر محفوظ پایا گیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ یہ نتائج چونکا دینے والے ہیں اور کمیٹی ان معاملات پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔