عبد الجبار
اسلام آباد……..پاکستان کا غذائی اشیا کا درآمدی بل جولائی 2026 میں بڑھ کر 224 ارب 24 کروڑ 90 لاکھ روپے، یعنی 80 کروڑ 54 لاکھ 87 ہزار ڈالر ہو گیا۔ پام آئل بدستور سب سے بڑی درآمدی شے رہا اور گزشتہ ماہ کے مقابلے میں اس کی درآمد میں نمایاں اضافہ ہوا۔درآمدی اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 کے مقابلے میں جولائی میں غذائی اشیا کی درآمدات میں روپے کے لحاظ سے 24.35 فیصد اور ڈالر کے لحاظ سے 24.51 فیصد اضافہ ہوا۔ جون میں غذائی درآمدات 180 ارب 33 کروڑ 10 لاکھ روپے یا 64 کروڑ 69 لاکھ 26 ہزار ڈالر تھیں۔جولائی 2025 کے مقابلے میں غذائی درآمدات میں روپے کے لحاظ سے 5.91 فیصد اور ڈالر کے لحاظ سے 8.12 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی 2025 میں غذائی درآمدات 211 ارب 73 کروڑ 10 لاکھ روپے یا 74 کروڑ 49 لاکھ 74 ہزار ڈالر تھیں۔پام آئل غذائی درآمدات میں سب سے بڑی شے رہا۔ جولائی 2026 میں 2 لاکھ 98 ہزار 172 ٹن پام آئل درآمد کیا گیا جس کی مالیت 99 ارب 92 کروڑ 70 لاکھ روپے یا 35 کروڑ 89 لاکھ 27 ہزار ڈالر رہی۔ یہ مجموعی غذائی درآمدی بل کا تقریبا 45 فیصد تھا۔جون 2026 کے مقابلے میں پام آئل کی درآمدی مقدار میں 46.71 فیصد، روپے کی مالیت میں 48.80 فیصد اور ڈالر کی مالیت میں 48.98 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی 2025 کے مقابلے میں مقدار 3.95 فیصد، روپے کی مالیت 16.18 فیصد اور ڈالر کی مالیت 18.60 فیصد بڑھی۔دیگر تمام غذائی اشیا درآمدی بل میں دوسرا بڑا حصہ رہیں۔ ان کی درآمدات کی مالیت 72 ارب 39 کروڑ 30 لاکھ روپے یا 26 کروڑ 3 ہزار 8 لاکھ ڈالر رہی۔ جون کے مقابلے میں ان میں روپے کے لحاظ سے 11.97 فیصد اور ڈالر کے لحاظ سے 12.12 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جولائی 2025 کے مقابلے میں بالترتیب 3.17 فیصد اور 5.32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دالیں بھی درآمد کی جانے والی اہم غذائی اشیا میں شامل رہیں۔ جولائی میں 1 لاکھ 31 ہزار 291 ٹن دالیں درآمد ہوئیں جن کی مالیت 22 ارب 38 کروڑ 40 لاکھ روپے یا 8 کروڑ 3 لاکھ 98 ہزار ڈالر تھی۔ جون کے مقابلے میں مقدار 7.44 فیصد، روپے کی مالیت 2.99 فیصد اور ڈالر کی مالیت 3.11 فیصد بڑھی۔ سالانہ بنیاد پر دالوں کی درآمدی مقدار میں 16.18 فیصد، روپے کی مالیت میں 6.54 فیصد اور ڈالر کی مالیت میں 8.76 فیصد اضافہ ہوا۔چائے کی درآمدات بھی نمایاں طور پر بڑھیں۔ جولائی میں 24,128 ٹن چائے درآمد کی گئی جس کی مالیت 16 ارب 63 کروڑ 50 لاکھ روپے یا 5 کروڑ 97 لاکھ 48 ہزار ڈالر تھی۔ جون کے مقابلے میں چائے کی درآمدی مقدار 25.60 فیصد، روپے کی مالیت 22.83 فیصد اور ڈالر کی مالیت 22.97 فیصد بڑھی۔ جولائی 2025 کے مقابلے میں مقدار 30.78 فیصد، روپے کی مالیت 39.15 فیصد اور ڈالر کی مالیت 42.04 فیصد زیادہ رہی۔دودھ، کریم اور شیر خوار بچوں کے لیے دودھ سے تیار غذاں کی درآمد 6,535 ٹن رہی جس کی مالیت 5 ارب 23 کروڑ 20 لاکھ روپے یا ایک کروڑ 87 لاکھ 95 ہزار ڈالر تھی۔ جون کے مقابلے میں مقدار 14.79 فیصد، روپے کی مالیت 12.35 فیصد اور ڈالر کی مالیت 12.49 فیصد بڑھی۔ جولائی 2025 کے مقابلے میں مقدار 4.80 فیصد، روپے کی مالیت 22.37 فیصد اور ڈالر کی مالیت 24.93 فیصد زیادہ رہی۔تاہم بعض غذائی اشیا کی درآمدات میں کمی بھی ہوئی۔ خشک میوہ جات اور گری دار میوے کی درآمد 6,230 ٹن رہی جس کی مالیت 2 ارب 12 کروڑ 10 لاکھ روپے یا 76 لاکھ 18 ہزار ڈالر تھی۔ جون کے مقابلے میں مقدار 8.86 فیصد، روپے کی مالیت 10.21 فیصد اور ڈالر کی مالیت 10.11 فیصد کم ہوئی۔مصالحہ جات کی درآمد 15,026 ٹن رہی جس کی مالیت 5 ارب 52 کروڑ 30 لاکھ روپے یا ایک کروڑ 98 لاکھ 38 ہزار ڈالر تھی۔ ماہانہ بنیاد پر مقدار میں 4.14 فیصد، روپے کی مالیت میں 10.58 فیصد اور ڈالر کی مالیت میں 10.47 فیصد کمی ہوئی۔ جولائی 2025 کے مقابلے میں مصالحہ جات پر ڈالر میں خرچ 16.77 فیصد کم رہا۔چینی کی درآمد محدود رہی۔ جولائی میں صرف 112 ٹن چینی درآمد کی گئی جس کی مالیت 3 کروڑ 40 لاکھ روپے یا 1 لاکھ 21 ہزار ڈالر تھی۔سویا بین آئل کی درآمد تقریبا 3 ٹن رہی جس کی مالیت تقریبا 10 لاکھ روپے یا 4 ہزار ڈالر تھی۔جولائی 2026 میں گندم کی کوئی درآمد نہیں ہوئی۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کا آغاز زیادہ غذائی درآمدی بل کے ساتھ کیا۔ ماہانہ بنیاد پر اضافے کی بنیادی وجہ پام آئل کی درآمد میں نمایاں اضافہ تھا جبکہ چائے، دالوں، دودھ سے متعلق مصنوعات اور دیگر غذائی اشیا پر بھی زیادہ رقم خرچ ہوئی۔