اسلام آباد (16 ستمبر 2025): گیلپ پاکستان نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹِسٹکس کے اکنامک مردم شماری 2024 کی بنیاد پر اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں کل 71 لاکھ 40 ہزار کاروباری ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں سے 99.5 فیصد یعنی 71 لاکھ سے زیادہ ادارے ایسے ہیں جن میں 50 سے کم ملازمین ہیں
رپورٹ بتاتی ہے کہ صرف 35 ہزار ادارے ایسے ہیں جنہیں درمیانے درجے (51 تا 250 ملازمین) میں شمار کیا جا سکتا ہے، جبکہ 7 ہزار بڑے ادارے (250 سے زائد ملازمین) پورے ملک میں موجود ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت ’’مسنگ مڈل‘‘ کا شکار ہے یعنی درمیانے درجے کے ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں
صوبائی اعتبار سے پنجاب سب سے آگے ہے جہاں 43 لاکھ 40 ہزار چھوٹے، 16 ہزار 700 درمیانے اور 3 ہزار 200 بڑے ادارے موجود ہیں۔ سندھ میں 13 لاکھ 80 ہزار چھوٹے اور 7 ہزار 800 درمیانے درجے کے ادارے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ تعداد ایک لاکھ سے کچھ کم اور بلوچستان میں صرف تین لاکھ ہے۔ اسلام آباد میں 85 ہزار چھوٹے اور ایک ہزار سے کچھ زائد درمیانے ادارے ہیں
رپورٹ کے مطابق چھوٹے اداروں کا غلبہ اور درمیانے یا بڑے اداروں کی کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملکی معیشت غیر رسمی اور خاندانی کاروباروں پر انحصار کر رہی ہے، جبکہ صنعت کاری اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے مضبوط درمیانے اداروں کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ایس ایم ای سیکٹر کو سہولتیں، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعے ترقی دی جائے تاکہ معیشت کے توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔