اسلام آباد۔۔۔۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اختیارات کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی۔ ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے جسٹس سرفراز ڈوگر کے مختلف اقدامات کو بھی چیلنج کردیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ انتظامی اختیارات عدالتی اختیارات پرحاوی نہیں ہوسکتے، چیف جسٹس پہلے سے تشکیل شدہ بینچ میں تبدیلی کرنے اور دستیاب ججز کو اپنی منشاء کے مطابق روسٹر سے الگ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس ججز کو عدالتی فرائض سے روکنے کے بھی مجاز نہیں۔
ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے جسٹس سرفراز ڈوگر کے مختلف اقدامات کو بھی چیلنج کیا ہے۔جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جج کو کام سے روکنے کی درخواست ہائیکورٹ میں قابل سماعت نہیں، جج کو صرف آرٹیکل 209 کے تحت ہی کام سے روکا جا سکتا ہے۔
پانچ ججز نے درخواست آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 202 کے تحت بنے رولز ہی بینچ تشکیل دینے کا اختیار دیتے ہیں جبکہ ماسٹرآف روسٹرکا نظریہ سپریم کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔درخواست میں انتظامی کمیٹیوں کے 3 فروری اور 15 جولائی کے نوٹیفکیشنز اور اقدامات سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ رولز کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگرکے اقدامات سپریم کورٹ میں چیلینج
-
By Web Desk
- September 19, 2025
Show Comments (0)
Hide Comments (0)
0
0
votes
Article Rating
Subscribe
Login
0 Comments
Oldest
Newest
Most Voted