فرخ تنویرملک
دوحہ،واشنگٹن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے۔قطرکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس نے دعوی کیا کہ مذاکرات سے واقف 3 ذرائع کے مطابق دونوں فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، دونوں ممالک میں دوبارہ جنگ کے خدشات بڑھ گئے۔امریکی صدرٹرمپ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران کیخلاف بڑی فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، رپورٹ کے مطابق قطری ثالث نے نیویارک میں ایرانی وزیرخارجہ اوران کی ٹیم سے کئی گھنٹے مذاکرات کئے۔قطر کی جانب سے پیش کردہ دو صفحات پر مشتمل سمجھوتے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا، قطری تجویز میں ایران کی ناکہ بندی اور جوہری پروگرام میں ٹھوس رعایتوں کے مطالبات شامل تھے۔ایگزیوس کے مطابق وائٹ ہائو س مذاکرات میں پیشرفت کے حوالے سے پرامید تھا، واشنگٹن سمجھتا ہے موجودہ صورتحال میں اسے سمجھوتے کی ضرورت نہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ قطری حکام مذاکرات میں پیش رفت کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے، امریکا اور ایران دونوں کے رویے سے قطری حکام کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے، قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں عباس عراقچی اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ قطر کی تجویز میں امریکا سے ایران کے جوہری معاملات پر رعایت کا مطالبہ شامل تھا۔عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد قطری ثالث واشنگٹن میں جیرڈ کشنر اور امریکی حکام سے بھی ملے، قطری ثالث سے ملاقات کے ایک حصے میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک ہوئے، تاہم مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ایکسیوس کے مطابق پاکستان اور مصر سمیت دیگر علاقائی ثالثوں نے بھی ایران پر جوہری معاملات میں رعایت دینے پر زور دیا ہے۔ایران کا موقف ہے کہ وہ اس معاملے پر تب ہی غور کرے گا جب امریکا جون کے مفاہمتی سمجھوتے پر واپس آئے گا۔