اکنامک مردم شماری 2024: پنجاب میں 60 فیصد سے زائد کاروبار، بلوچستان سب سے پیچھے — گیلپ پاکستان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی ایکنامک مردم شماری 2024 کے نتائج پر گیلپ پاکستان کے تازہ تجزیے نے صوبائی فرق کو واضح کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی 7.14 ملین کاروباری اکائیوں میں سے 61 فیصد پنجاب میں قائم ہیں، جبکہ بلوچستان میں صرف 4 فیصد کاروباری سرگرمیاں ہیں

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 4.36 ملین (4,360,000) کاروباری ادارے موجود ہیں، جو ملک کی معیشت کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ یہاں تجارت، صنعت اور خدمات سبھی شعبے تقریباً برابر چل رہے ہیں۔ سندھ میں 1.39 ملین (1,390,000) کاروباری ادارے ہیں جو کل کا تقریباً 19.4 فیصد بنتے ہیں، اگرچہ یہ صوبے کی 23 فیصد آبادی کے مقابلے میں کم ہے۔ کراچی صوبے کو پاکستان کا تجارتی اور صنعتی دل بناتا ہے جہاں بڑے پیمانے پر کاروبار ہوتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں 1.00 ملین (1,000,000) ادارے ہیں جو ملک کے کل کا 14 فیصد ہیں، لیکن صوبے کی 17 فیصد آبادی کے مقابلے میں یہ کم ہیں۔ زیادہ تر کاروبار چھوٹے پیمانے پر دکانوں اور گھریلو سرگرمیوں تک محدود ہیں۔ بلوچستان سب سے کمزور دکھائی دیتا ہے جہاں صرف 0.30 ملین (303,000) ادارے ہیں، جو ملک کے کل کا 4.2 فیصد ہیں، جبکہ صوبے کی آبادی کا حصہ 6 فیصد ہے۔ یہاں کاروباری سرگرمیاں زیادہ تر زرعی اور خوردہ تجارت تک محدود ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اگرچہ محض 0.086 ملین (86,000) کاروباری ادارے رکھتا ہے، لیکن ہر ایک ہزار افراد کے حساب سے یہاں کاروباری اداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہاں کی معیشت خدمات پر مبنی ہے، جس میں تعلیم، صحت اور مالیاتی ادارے نمایاں ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ مردم شماری ظاہر کرتی ہے کہ پنجاب اور سندھ ملک کی معیشت کے بڑے مراکز ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو زیادہ توجہ اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو فروغ دینے، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بہتر انتظامات کرنے اور خصوصی اقتصادی زونز قائم کرنے سے ان صوبوں کی پسماندگی کم کی جا سکتی ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x