ایل نینو پانی اور زراعت کے خطرات بڑھا سکتا ہے

عبدالجبار

لاہور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بین الاقوامی ادارہ برائے آبی انتظام آئی ڈبلیو ایم آئی کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا ہے کہ ایل نینو پاکستان میں موسمی تغیرات بڑھا سکتا ہے جس سے بارشوں اور درجہ حرارت کے انداز متاثر ہونے اور پانی کی دستیابی و زراعت پر دبا بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایل نینو کے اثرات ہمیشہ براہِ راست یا یکساں نہیں ہوتے، تاہم یہ غیر معمولی گرمی کے ادوار اور بارشوں کے وقت اور تقسیم میں تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ڈاکٹر اشرف نے کہاکہ طویل خشک وقفے، شدید بارشوں کے واقعات اور زیادہ درجہ حرارت یہ سب زراعت اور آبی وسائل پر دبا ڈال سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمی حالات میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی اور موسم کی پیش گوئی سے متعلق معلوماتی خدمات کو مضبوط بنانا، پانی ذخیرہ کرنے اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا، زیرِ زمین پانی کا تحفظ اور اس کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے اقدامات کرنا اور کسانوں کو قابلِ اعتماد موسمی معلومات کی بنیاد پر آبپاشی اور فصلوں کے انتخاب کے فیصلے کرنے میں مدد دینا ہوگی۔ڈاکٹر اشرف نے کہاکہ ہر انفرادی موسمی واقعے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے تیاری اور موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کو ترجیح دینی چاہیے۔ایل نینو کے باعث بارشوں میں کمی کے ممکنہ اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بارشیں کم ہونے سے پانی کے پورے نظام پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ بارشوں میں کمی کا مطلب دریاں اور آبی ذخائر میں بہنے والے پانی میں کمی، زیرِ زمین پانی کے قدرتی ذخائر کی کمی اور بارانی علاقوں میں ذخیرہ شدہ یا زیرِ زمین پانی پر زیادہ انحصار ہے جس سے فصلوں کی تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی کے حساب کتاب اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔آئی ڈبلیو ایم آئی کے ماہر نے کہا کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کتنا پانی دستیاب ہے، کہاں دستیاب ہے، کتنا استعمال ہو رہا ہے اور کن مقامات پر پانی ضائع ہو رہا ہے۔ڈاکٹر اشرف نے کہا کہ پاکستان کو بتدریج آبپاشی کے زیادہ مثر طریقے اپنانے چاہییں۔انہوں نے کہا تاہم مثر آبپاشی کا مطلب ہمیشہ قطرہ قطرہ آبپاشی یا چھڑکا کے نظام اپنانا نہیں ہوتا۔انہوں نے وضاحت کی کہ زمین کو لیزر ٹیکنالوجی سے ہموار کرنے، کھیتوں کی مناسب ترتیب، پٹڑیوں اور نالیوں کے ذریعے آبپاشی اور، سب سے بڑھ کر، آبپاشی کے مناسب اوقات اور شیڈول کے ذریعے بھی پانی کے استعمال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ان کے مطابق آبپاشی کی ٹیکنالوجی کا انتخاب فصل، کھیت کے رقبے، پانی کی دستیابی، مٹی کی نوعیت، زمین کی ساخت اور موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قطرہ قطرہ آبپاشی کا طریقہ زیادہ قدر والی فصلوں اور باغبانی کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتا ہے، بالخصوص وہاں جہاں پانی کی درست مقدار پہنچانا ضروری ہو۔ اسی طرح چھڑکا کے ذریعے آبپاشی بھی موزوں زمینوں، فصلوں اور جغرافیائی حالات میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔گندم، چاول، کپاس، گنے اور مکئی جیسی اہم فصلوں کے بارے میں ڈاکٹر اشرف نے کہا کہ زمین کو ہموار کرنے، آبپاشی کے اوقات بہتر بنانے، کھیتوں کی مناسب ترتیب اور پانی کے درست استعمال سے بھی نمایاں فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ پورے نظام کو تبدیل کرکے قطرہ قطرہ یا چھڑکا کے ذریعے آبپاشی اختیار کر لی جائے۔۔۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x