نثاراحمد
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔ بلوچستان کے مغربی حصے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کے تحت جاری سڑکوں کے چار منصوبوں پر مجموعی طور پر 54.9 ارب روپے جاری اور خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ ان منصوبوں کے لیے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی کے تحت مجموعی طور پر 83.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار مالی سال 2020-21 سے 2026-27 تک کے عرصے پر مشتمل ہیں، جس میں گزشتہ چھ مالی سال اور موجودہ مالی سال کا بجٹ شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق مختص رقم کا تقریبا 66 فیصد جاری اور خرچ کیا جا چکا ہے، جبکہ 28.3 ارب روپے ابھی استعمال نہیں ہوئے۔ان چار منصوبوں میں ایم-8 موٹروے کے دو حصے، این-30 کا بسیمہ-خضدار سیکشن اور این-50 کا ژوب-کچلاک سیکشن شامل ہیں۔ ان سڑکوں کی مجموعی لمبائی 718 کلومیٹر ہے۔ ان کا مقصد بلوچستان میں رابطوں کو بہتر بنانا اور دور دراز اضلاع، تجارتی مراکز اور اہم قومی شاہراہوں کے درمیان آمدورفت کے روابط مضبوط کرنا ہے۔ایم-8 موٹروے کے 168 کلومیٹر طویل آواران-نال سیکشن کے لیے سب سے زیادہ 27.28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مالیاتی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 20.45 ارب روپے جاری اور خرچ ہو چکے ہیں، جو مختص رقم کا تقریبا 75 فیصد بنتے ہیں۔ اس طرح 6.83 ارب روپے کا فرق باقی ہے۔این-50 کے 298 کلومیٹر طویل ژوب-کچلاک سیکشن کے لیے دوسری بڑی رقم 23.85 ارب روپے مختص کی گئی ہے۔ تاہم، اس منصوبے کے لیے اب تک 11.707 ارب روپے جاری اور خرچ کیے گئے ہیں، جو مختص رقم کا تقریبا 49 فیصد ہے۔ اس طرح چاروں منصوبوں میں اس منصوبے کے لیے سب سے زیادہ، تقریبا 12.14 ارب روپے کی رقم ابھی استعمال نہیں ہوئی۔ایم-8 موٹروے کے 146 کلومیٹر طویل ہوشاب-آواران سیکشن کےلیے مجموعی طور پر 18.30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اس کے لیے 9.75 ارب روپے جاری اور خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ مختص رقم کا تقریبا 53 فیصد ہے، جبکہ 8.55 ارب روپے کا فرق باقی ہے۔دوسری جانب این-30 کے 106 کلومیٹر طویل بسیمہ-خضدار سیکشن میں مختص رقم کے مقابلے میں سب سے زیادہ پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے لیے 13.75 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 12.97 ارب روپے جاری اور خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ مجموعی مختص رقم کا تقریبا 94 فیصد ہے، جبکہ 780 ملین روپے باقی ہیں۔مجموعی طور پر ایم-8 موٹروے کے دونوں حصوں کے لیے 45.58 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ان پر 30.20 ارب روپے جاری اور خرچ ہو چکے ہیں۔اسی طرح این-30 اور این-50 کے دونوں حصوں کے لیے مجموعی طور پر 37.60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ان کے لیے تقریبا 24.68 ارب روپے جاری اور خرچ کیے جا چکے ہیں۔مالیاتی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے مغربی حصے میں ان چار سڑکوں کے منصوبوں پر مختص رقوم کے استعمال کی شرح مختلف ہے۔ بسیمہ-خضدار سیکشن میں سب سے زیادہ، جبکہ ژوب-کچلاک سیکشن میں سب سے کم رقم استعمال ہوئی ہے۔یہ منصوبے بلوچستان کے ذرائع آمدورفت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور علاقائی رابطوں کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ان کی تکمیل سے نقل و حمل کی مشکلات کم کرنے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور ان علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے جہاں پہلے بنیادی سہولتوں کی کمی رہی ہے۔مالیاتی صورت حال اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبے بھر میں بہتر رابطوں اور معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل کرنے کی خاطر مسلسل مالی معاونت اور منصوبوں پر بروقت عمل درآمد ضروری ہے۔